03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بینک آف پنجاب میں فون بینکنگ آفیسرکی ملازمت کا حکم
90191سود اور جوے کے مسائلمختلف بینکوں اور جدید مالیاتی اداروں کے سود سے متعلق مسائل کا بیان

سوال

السلام علیکم مفتی صاحب میرا سوال یہ ہے مجھے ایک صاحب نے  اپنے بینک کی  جاب(فون بینکنگ آفیسر) کی ڈسکرپشن بھیجی ہے وہ بینک آف پنجاب میں جاب کرنا چاہتے ہیں آپ اس حوالے سے  تفصیلی رہنمائی فرمادیں جاب کرنا ٹھیک ہے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سودی بینک کی ایسی ملازمت جس کا تعلق برا ہ ِراست سودی معاملات سےہو ناجائز اور حرام ہے، البتہ وہ  ملازمت جس کا تعلق براہ راست سودی معاملات سے نہ ہو اور اس ملازمت میں سودی لین دین، یا سودی لکھت پڑھت  وغیرہ سے متعلق کوئی کام نہ کرناپڑتا ہوتو وہ جائز ہے، صورت مسئولہ میں فون بینکنگ آفیسر   کی صارفین کے ساتھ بات چیت اور معاونت اگر سودی لین دین کا سبب ہے تو جتنا وقت ایسے سودی اکاونٹس کی معاونت میں لگے اسکے بقدر تنخواہ ناجائز ہوگی اور اگر ایسا نہیں تو پھر جائز ہے، مگر حتی الامکان سودی بینکوں کی ایسی ملازمت سے بھی گریز کرنا چاہیےاور اپنے لیے اور کوئی حلال ذریعہ معاش تلاش کیا جائے ۔

البتہ اگر اس ملازمت کی  ڈیوٹی بینک آف پنجاب کے اسلامک ونڈو (تقوی اسلامک بینک ) میں ہوتو ہماری معلومات کے مطابق تقوی اسلامک بینک مستند مفتیان کرام  کی زیر نگرانی کام کر رہاہے  وہاں پر اس قسم کی ملازمت کرنا جائز ہے ۔

حوالہ جات

صدام حسین 

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی 

۱۰ /ذوالقعدہ /۱۴۴۷ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

صدام حسین بن ہدایت شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب