| 90247 | خرید و فروخت کے احکام | بیع صرف سونے چاندی اور کرنسی نوٹوں کی خریدوفروخت کا بیان |
سوال
السلام علیکم ورحمۃ اللہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مفتیان عظام اس مسئلہ شرعیہ کے بارے میں کہ ہم فلسطین اور غزہ میں موجود ایک ساتھی کو پیسے بھیجتے ہیں ہم بائنانس میں ڈالر خریدتے ہیں تقریبا پانچ لاکھ روپے، 285 روپے میں ڈالر خرید کر 1754 ڈالر بھیجتے ہیں اور وہاں اس ڈالر پر سبزی، کپڑے وغیرہ خرید کر لوگوں میں تقسیم کرتے ہیں ، اب مسئلہ یہ ہے کہ ہم پاکستانی پانچ لاکھ روپے پر پہلے 1754 ڈالر خریدتے ہیں پھر وہاں بھیجتے ہیں اور وہاں اس ڈالر سے فلسطینی کرنسی شیکل خریدتے ہیں تو بائنانس میں اس طرح ڈالر خریدنا کیسا ہے ،نیز اس مسئلہ کی بھی وضاحت کرے کہ جو شخص ہم پر ڈالر فروخت کرتے ہیں چونکہ اس کے ساتھ ڈالر تیار ہوتے ہیں تو ہم سے بھیجنے پر کچھ ٹیکس اور کچھ دو تین ڈالر کاٹتے ہیں یا ڈالر 285 کے علاوہ 290 میں لگاتے ہیں تو یہ ٹیکس کاٹنا کیسا ہے اور یہ فلسطینی چندے سے کاٹ جائیں گے یا الگ ہم جیب سے دیں گے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
کریپٹو کرنسی کے حوالے سے علماء کرام کی مختلف آراء ہیں جو اس کی مال ،زر یا قانونی کرنسی نہ ہونے یا غرر اور جوئے میں استعمال ہونے وغیرہ امور پر مبنی ہیں ،تاہم اتنی بات اتفاقی ہے کہ یہ قانونی کرنسی فی الحال نہیں ہے ، اس لئے اس کوبطور سرمایہ کاری استعمال کرنے یا کرنسی کے طور پر اسکے عمومی لین دین سے بچنا چاہئے، البتہ مسئولہ صورت میں اگر اس کے ذریعہ سےفلسطین کو امداد بھیج دی جائے تو خصوصی ضرورت کی وجہ سے اور اس کو صرف درمیانی واسطے کی صورت میں استعمال کرنے کی وجہ سے اس کی گنجائش ہےنیز رقم کی ترسیل پر جتنی لاگت آتی ہو اس رقم کی کٹوتی بھی امدادی فنڈ سے کی جاسکتی ہے۔
حوالہ جات
صدام حسین
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
۱۵ /ذوالقعدہ / ۱۴۴۷ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | صدام حسین بن ہدایت شاہ | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


