03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ناحق ٹیکس سے بچنے کے لیے  بھی  صریح جھوٹ بولناگناہ ہے  
90824جائز و ناجائزامور کا بیانغیبت،جھوٹ اور خیانت کابیان

سوال

پاکستان میں اگر کوئی فرد یا ادارہ کاروبار کرنا چاہتا ہے تو اس کے لیے حکومت کے پاس اپنے آپ کو ٹیکس کے نظام میں رجسٹر کروانا پڑتا ہے،اس کے بعد   وہ  حکومت کو ہر سال ٹیکس دیتا ہے، لیکن اب مسئلہ یہ ہے کہ اگر وہ  اپنی آمدن صحیح معنوں میں ظاہر کرے تو آمدن کا زیادہ حصہ ٹیکس کی نذر ہوجاتا ہے، اس لیے  سو فیصد جھوٹ بول کر اپنی آمدن کم از  کم ظاہر کی جاتی ہےاورکم ٹیکس دے کر کام چلایا جاتا ہے۔ اس صورت ِحال میں جو فرد اور ادارے جھوٹ سے کام چلائیں تو   کیا ایسا کرنے میں گناہ ہوگا ؟ اور یہ  کمائی حلال تصور ہوگی؟   

 

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

 بطور تمہید واضح رہے کہ شریعت ہر معاملے میں سچائی اور امانت ودیانت کا حکم دیتی ہے،اس کے برخلاف جھوٹ، خیانت، دھوکہ دہی اور فریب پر مبنی معاملے کی شدید مذمت کرتی ہے،نیز فقہاء کرام نے حکومتی  ذمہ داریاں  بڑھ جانے پراس کی واقعی ضرورتوں اور جائز مصارف کے لیے درج ذیل شرائط کے ساتھ صرف بوقتِ ضرورت اور  بقدرِ ضرورت ٹیکس عائد کرنے کی گنجائش دی ہے:   

1۔حکومت کے مصارف کو اسراف وتبذیر سے پاک کیا جائے۔

2۔ ٹیکس اتنا ہی لگایا جائے جو ضرورت پوری کرنے کے لیے کافی ہو،یہاں تک کہ قومی خزانے میں وسعت پیدا ہوجائے۔

3۔ٹیکس عائدكرنے میں انصاف سے کام لیا جائے،یہ نہ ہو کہ کسی پر بہت زیادہ ٹیکس عائد ہو اور اسی قسم کے دوسرے شخص پر اس سے کم لگایا جائے۔

4۔قومی خزانہ خالی ہو، یعنی اس میں موجود مال درپیش ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہو۔

5۔ٹیکس کی رقم ملک وملت کی حقیقی ضرورتوں اور مصالح پر خرچ کی جائے،بے جا ضائع نہ کی جائے۔

6۔لوگوں پر ان کی حیثیت کے مطابق ٹیکس لگایا جائے،یعنی ٹیکس کی شرح اتنی زیادہ نہ مقرر کی جائے جس کی ادائیگی لوگوں کے لیے بوجھ بن جائے۔

لہٰذا اگرحکومتی ٹیکسز میں درج بالا شرائط کی پاسداری کی جائے تو پورے ٹیکس کی ادائیگی لازم ہے اور اگر مذکورہ بالا شرائط کی پاسداری نہ کی جائے ، جیسا کہ ہمارے ملک میں بالواسطہ اور بلا واسطہ ٹیکسوں کی شرح بنسبت حکومت اور ریاست کی طرف سے ملنے والی سہولیات کےکافی زیادہ ہے، اور منصفانہ عملی نظام نہ ہونے کی وجہ سے معاشرہ میں ٹیکسز کے حوالے سے خدشات اور شدید اضطراب پایا جاتا ہے،  تو جتنا ٹیکس ناحق وصول کیا جارہا  ہوتو اس سے ماہرینِ ٹیکس کی مشاورت سے اخفاء (چھپاکر) کے ذریعہ نجات حاصل کرنا جائز ہے، بشرطیکہ اس میں جھوٹ وغیرہ کا گناہ مول نہ لیاجائے ،کیونکہ صریح جھوٹ بولناحرام اور کبیرہ گناہ ہے،مگر ظالمانہ ٹیکس سے  غیر معمولی مالی نقصان یا تکلیف و مشقت کا سامنا کرنا پڑتا ہو،اور کسی دوسری تدبیر یا  تعریض و توریہ سےبھی  کام نہ چلے ،تو پھرایسی صورت میں  صریح  جھوٹ کےجواز  کےقائل بعض علماء کی تحقیق کے مطابق عمل کر لینے میں امید ہے کہ گناہ نہ ہوگا (اور اس طرزِ  عمل کو رخصت قرار دیا جائے گا)،لیکن اس کے باوجود کوئی صریح  جھوٹ سے پرہیز کرے اور اپنے  ذاتی نقصان اور تکلیف کو برداشت کرے، تو اس میں بھی کوئی گناہ نہ ہوگا (بلکہ اس طرزِ عمل کو عزیمت پر محمول کیا جائے گا)۔

البتہ ٹیکس ادا کرنے والے کی آمدن میں کوئی اور خرابی نہ ہو اوروہ   اپنے آپ کو کسی اور تدبیر کے کارگر ہونے کے باوجود بذریعہ صریح  جھوٹ صرف  ناحق ٹیکس  سے بچالے،تو اس  صورت میں جھوٹ کا گناہ تو ہوگامگر   یہ مال اس کی ملکیت میں پہلے سے موجود ہونے کی وجہ سے حسبِ سابق حلال ہی رہے گا،جبکہ اس کے علاوہ  جھوٹ بول کریا  جھوٹی  قسم  کھاکر یا  دھوکہ دے کر مال کمایا جائے توگناہ کے ساتھ ساتھ  ایسی کمائی   بھی حرام ہوگی ،نیز جھوٹ کی وجہ سے اس کے کاروبار سے   برکت بھی اٹھا لی جاتی ہے۔باقی یہ بات کہ حکومت کتنی مقدار جائز وصول کررہی ہے اور کتنی ناجائز؟ اس بارے میں ٹیکس کے ماہرین ہی بتاسکتے ہیں،ہر فرد کے بارے میں یہ یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ اس سے ناجائز ٹیکس لیا جارہا ہے،ہاں اگر کوئی شخص محسوس کرتا ہے اور اسے ٹیکس نظام کے بارے میں یقین ہے کہ اتنی مقدار غیر ضروری اور ناجائز ہے، تو اس کے لیے ناجائز ٹیکس سے خود کو بچانے کے لیے حیلہ اور کوئی مناسب تدبیر اختیار کرنے کی گنجائش ہے۔ (ازتبویب:73528، 89856)

حوالہ جات

تفسير البيضاوي = أنوار التنزيل وأسرار التأويل (1/ 45):

ولهم عذاب أليم بما كانوا يكذبون (10) ...والكذب: هو الخبر عن الشيء على خلاف ما هو به. وهو حرام كله؛ لأنه علل به استحقاق العذاب حيث رتب عليه. وما روي أن إبراهيم عليه الصلاة والسلام كذب ثلاث كذبات، فالمراد التعريض. ولكن لما شابه الكذب في صورته سمي به.

صحيح البخاري (3/ 172):

عن عبد الرحمن بن أبي بكرة، عن أبيه رضي الله عنه، قال: قال النبي ﷺ: «ألا أنبئكم بأكبر الكبائر؟» ثلاثا، قالوا: بلى يا رسول الله، قال: «الإشراك بالله، وعقوق الوالدين - وجلس وكان متكئا فقال :- ألا وقول الزور»، قال: فما زال يكررها حتى قلنا: ليته سكت.

صحيح البخاري (3/ 58):

عن عبد الله بن الحارث، رفعه إلى حكيم بن حزام رضي الله عنه، قال: قال رسول الله ﷺ: " البيعان بالخيار ما لم يتفرقا، - أو قال: حتى يتفرقا - فإن صدقا وبينا بورك لهما في بيعهما، وإن كتما وكذبا محقت بركة بيعهما ".  

عمدة القاري شرح صحيح البخاري (14/ 276)     :

(باب الكذب في الحرب)أي: هذا باب في بيان الكذب في الحرب هل يجوز أم لا؟ وإذا جاز يجوز بالتصريح أو بالتلويح؟ ويجيء بيانه الآن... عن جابر بن عبد الله رضي الله تعالى عنهما أن النبي ﷺ قال: من لكعب بن الأشرف؟ فإنه قد آذى الله ورسوله ،قال محمد بن مسلمة: أتحب أن أقتله يا رسول الله!قال: نعم... قيل: لا مطابقة بين الحديث والترجمة، لأن الذي وقع من محمد بن مسلمة في قتل كعب بن الأشرف يمكن أن يكون تعريضا. وأجيب: بوجود المطابقة، فإن محمد بن مسلمة، قال: فأذن لي، فأقول؟ قال: قد فعلت ،فإنه يدخل فيه الإذن في الكذب تصريحا وتلويحا. فإن قلت: ليس في حديث الباب هذا. قلت: هذه الزيادة ثابتة في حديث الباب الذي يليه، والحديث واحد في الأصل عن جابر، على أنه قد جاء من ذلك صريحا فيما أخرجه الترمذي من حديث أسماء بنت يزيد مرفوعا: لا يحل الكذب إلا في ثلاث: يحدث الرجل امرأته ليرضيها، والكذب في الحرب، وفي الإصلاح بين الناس. وقال النووي: الظاهر إباحة حقيقة الكذب في الأمور الثلاثة، لكن التعريض أولى.

عمدة القاري شرح صحيح البخاري (12/ 32):

وفيه: الحيل في التخلص من الظلمة، بل إذا علم أنه لا يتخلص إلا بالكذب جاز له الكذب الصراح، وقد يجب في بعض الصور بالاتفاق ؛لكونه ينجي نبيا أو وليا ممن يريد قتله أو لنجاة المسلمين من عدوهم، وقال الفقهاء: لو طلب ظالم وديعة لإنسان ليأخذها غصبا، وجب عليه الإنكار والكذب في أنه لا يعلم موضعها.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 330):

(وكذا النوائب)ولو بغيرحق،كجبايات زماننا،فإنها في المطالبة كالديون بل فوقها، حتى لو أخذت من الأكار فله الرجوع على مالك الأرض، وعليه الفتوى، صدر الشريعة. وأقره المصنف وابن الكمال، وقيده شمس الأئمة بما إذا أمره به طائعا، فلو مكرها في الأمر لم يعتبر لما أمره بالرجوع ذكره الأكمل...(قوله: وكذا النوائب) جمع نائبة، وفي الصحاح النائبة المصيبة، واحدة نوائب الدهر هـ، وفي اصطلاحهم ما يأتي. قال في الفتح :قيل :أراد بها ما يكون بحق كأجرة الحراس وكري النهر المشترك والمال الموظف لتجهيز الجيش وفداء الأسرى إذا لم يكن في بيت المال شيء وغيرهما مما هو بحق، فالكفالة به جائزة بالاتفاق؛ لأنها واجبة على كل مسلم موسر بإيجاب طاعة ولي الأمر فيما فيه مصلحة المسلمين ولم يلزم بيت المال، أو لزمه ولا شيء فيه، وإن أريد بها ما ليس بحق كالجبايات الموظفة على الناس في زماننا ببلاد فارس على الخياط والصباغ وغيرهم للسلطان في كل يوم أو شهر ، فإنها ظلم.فاختلف المشايخ في صحة الكفالة بها، فقيل: تصح إذ العبرة في صحة الكفالة وجود المطالبة إما بحق أو باطل؛ ولهذا قلنا: من تولى قسمتها بين المسلمين فعدل فهو مأجور، وينبغي أن من قال الكفالة ضم في الدين يمنعها هنا، ومن قال في المطالبة يمكن أن يقول بصحتها أو يمنعها بناء على أنها في المطالبة بالدين أو مطلقا اهـ، فإن قال بالدين منعها، وإن قال مطلقا أي بالدين وغيره أجازها.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 427):

الكذب مباح لإحياء حقه ودفع الظلم عن نفسه ،والمراد التعريض؛ لأن عين الكذب حرام ،قال: وهو الحق ،قال تعالى :- {قتل الخراصون} [الذاريات: 10]- ،الكل من المجتبى ...(قوله :الكذب مباح لإحياء حقه)،كالشفيع يعلم بالبيع بالليل، فإذا أصبح يشهد ويقول علمت الآن،وكذا الصغيرة تبلغ في الليل وتختار نفسها من الزوج وتقول: رأيت الدم الآن. واعلم أن الكذب قد يباح وقد يجب، والضابط فيه كما في تبيين المحارم وغيره عن الإحياء أن كل مقصود محمود يمكن التوصل إليه بالصدق والكذب جميعا، فالكذب فيه حرام، وإن أمكن التوصل إليه بالكذب وحده فمباح إن أبيح تحصيل ذلك المقصود، وواجب إن وجب تحصيله، كما لو رأى معصوما اختفى من ظالم يريد قتله أو إيذاءه فالكذب هنا واجب، وكذا لو سأله عن وديعة يريد أخذها يجب إنكارها، ومهما كان لا يتم مقصود حرب أو إصلاح ذات البين أو استمالة قلب المجني عليه إلا بالكذب فيباح، ولو سأله سلطان عن فاحشة وقعت منه سرا كزنا أو شرب فله أن يقول ما فعلته، لأن إظهارها فاحشة أخرى، وله أيضا أن ينكر سر أخيه، وينبغي أن يقابل مفسدة الكذب بالمفسدة المترتبة على الصدق، فإن كانت مفسدة الصدق أشد  فله الكذب، وإن العكس أو شك حرم، وإن تعلق بنفسه استحب أن لا يكذب، وإن تعلق بغيره لم تجز المسامحة لحق غيره، والحزم تركه حيث أبيح، وليس من الكذب ما اعتيد من المبالغة ،كجئتك ألف مرة ؛لأن المراد تفهيم المبالغة لا المرات، فإن لم يكن جاء إلا مرة واحدة فهو كاذب اهـ ملخصا، ويدل لجواز المبالغة الحديث الصحيح «وأما أبو جهم فلا يضع عصاه عن عاتقه» .

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار:5/ 47):

لا يحل كتمان العيب في مبيع أو ثمن؛ لأن الغش حرام...(قوله: لأن الغش حرام) ذكر في البحر أو الباب بعد ذلك عن البزازية عن الفتاوى: إذا باع سلعة معيبة، عليه البيان، وإن لم يبين قال بعض مشايخنا: يفسق وترد شهادته، قال الصدر: لا نأخذ به. اهـ. قال في النهر: أي لا نأخذ بكونه يفسق بمجرد هذا؛ لأنه صغيرة. اهـ قلت: وفيه نظر؛ لأن الغش من أكل أموال الناس بالباطل، فكيف يكون صغيرة؟ بل الظاهر في تعليل كلام الصدر أن فعل ذلك مرة بلا إعلان لا يصير به مردود الشهادة، وإن كان كبيرة كما في شرب المسكر.

محمدعبدالمجیدبن مریدحسین

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

7/محرم /1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمدعبدالمجید بن مرید حسین

مفتیان

مفتی محمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب