| 91547 | خرید و فروخت کے احکام | بیع فاسد ، باطل ، موقوف اور مکروہ کا بیان |
سوال
جناب مفتی صاحب !!! السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ ۔ گزارش ہے کہ بجلی نگر سیکٹر F/4 اورنگی ٹاؤن کراچی میں میرے دو پلاٹ نمبر 132اور 149 ہیں ۔ 2010 میں میں نے ایک شخص کو یہ دونوں پلاٹ کرایہ پر دیا تھا ۔ دھوکہ سے اس نے دونوں پلاٹوں پر غیر قانونی طور پر قبضہ کرلیا اور اسی دوران اسنے کے ایم سی والوں سے ملکر ایک پلاٹ اپنے نام اور ایک پلاٹ اپنے بھانجے کے نام پر جعلی لیز کرا لیا۔ میں نے کورٹ میں کرایہ دارکے خلاف کیس داخل کیا اور کیس جیت لیا ۔کورٹ نے 2000 میں ایس ایچ او اورنگی ٹاؤن کو جگہ خالی کرانے کے لیٹر اشو کرلیا ۔ اگلے روز میں پولیس پارٹی اور کورٹ بیلف کے ساتھ جگہ خالی کرانے کے لیے جگہ پر پہنچ گئےتو وہاں ہمیں ایک تیسرا شخص ملا اور کہنے لگا کہ میں نے یہ جگہ 2017 میں خریدا ہے۔اس کے بعد میں پولیس پارٹی اور کورٹ بیلف کے ساتھ مومن آباد تھانہ پہنچ کر بیلف نے اپنا رپورٹ تھانے میں جمع کرایا ۔بعد میں ہم لوگ وہاں سے اپنے اپنے گھر چلے گئے ۔ حالانکہ 2016 میں میں خود جاکر اس تیسرے شخص کو کہا تھا کہ میں نے سنا ہے کہ یہ جگہ آپ خرید رہے ہیں یہ جگہ میری ہے جس پر کرایہ دار نے نا جائز قبضہ کرکے اپنے اور اپنے بھانجے کے نام پر جعلی لیز بھی بنایا ہے اور کورٹ میں اس کے خلاف کیس بھی چل رہا ہے۔ میں نے اس سے التجا کی کہ بھائی صاحب یہ جگہ آپ نہیں خریدیں کیونکہ بعد میں مسائل پیدا ہو نگے لیکن میرے منع کرنے کے باوجود میری یہ جگہ تیسرے شخص نے کرایہ دار سے 1917 میں خرید لیا۔اس واقع کےدو تین دن کے بعد اس تیسرے شخص نے اپنے چچا کے کے ذریعہ میرے خلاف کورٹ میں جوٹا کیس دائر کرا دیا ۔ اب کیس کورٹ میں زیر سماعت ہے ۔ اب ہم جرگہ بٹھا کر آپس میں فیصلہ کرنا چاہتے ہیں ۔ لہذا آپ سے گزارش ہے کہ مندرجہ ذیل سوالات کی روشنی میں قرآن اور سنت کے مطابق مجھے فتویٰ جاری کریں تاکہ میں جرگہ میں جمع کرا سکوں ۔ سوال نمبر 1 ۔ کیا کوئی غیر قانونی قابض شخص ایسی جگہ تیسرے شخص پر فروخت کر سکتا ہے جس پر کورٹ میں پہلے سے کیس چل رہا ہو۔ جبکہ خریدار کو معلوم ہے کہ اس جگہ پر قبضہ ہے اور کورٹ میں کیس بھی چل رہا ہے سوال نمبر 2. ایسی قابض جائداد کی فروخت پر شریعت اور علماء کرام کیا کہتے ہیں ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
کسی دوسرے شخص کی زمین پر ناجائز قبضہ کر کے اسے اصل مالک کی اجازت کے بغیر فروخت کرنا شرعاً "بیعِ فضولی" کہلاتا ہے۔ اس بیع کا حکم یہ ہے کہ اگر اصل مالک اس خرید و فروخت کی اجازت دے دے، تو یہ بیع منعقد (نافذ) ہو جاتی ہے۔ تاہم، اگر وہ اجازت نہ دے، تو یہ بیع باطل ہو جاتی ہے اور زمین اصل مالک کو واپس لوٹانا لازمی ہوتا ہے۔
صورتِ مسئولہ میں، اگر واقعتاً سائل کی زمین پر ناجائز قبضہ کر کے اسے کسی تیسرے شخص کو فروخت کیا گیا ہے، تو یہ بیع باطل اور ناجائز ہوگی ؛کیونکہ اصل مالک (یعنی سائل) اس بیع پر راضی نہیں ہے، اس لیے اس تیسرے شخص (خریدار) پر لازم ہے کہ وہ یہ زمین اصل مالک کو واپس کرے، کیونکہ اصل مالک ہی اس زمین کا حقیقی حق دار ہے۔
حوالہ جات
سورۃ البقرۃ الآية" 188 :
ولا تأكلوا أموالكم بينكم بالباطل وتدلوا بها إلى الحكام لتأكلوا فريقا من أموال الناس بالأثم وأنتم تعلمون۔
مشكاة المصابيح (2/ 887):
عن سعيد بن زيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أخذ شبرا من الأرض ظلما فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين۔
وعن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ألا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه» . رواه البيهقي في شعب الإيمان والدارقطني في المجتبى۔
فتح القدير للكمال ابن الهمام (6/ 248):
ومنها شرط النفاذ وهو الملك والولاية، حتى إذا باع ملك غيره توقف النفاذ على الإجازة ممن له الولاية۔
حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» (5/ 106):
واصطلاحا (من يتصرف في حق غيره) بمنزلة الجنس (بغير إذن شرعي)... (كل تصرف صدر منه) تمليكا كان كبيع وتزويج، وإسقاطا كطلاق وإعتاق (وله مجيز) أي لهذا التصرف من يقدر على إجازته (حال وقوعه انعقد موقوفا) وما لا يجيز له حالة العقد لا ينعقد أصلا.
الهداية في شرح بداية المبتدي» (3/ 68):
قال: "ومن باع ملك غيره بغير أمره فالمالك بالخيار، إن شاء أجاز البيع؛ وإن شاء فسخ".
محمد ابراہیم قریشی بن عبدالرزاق
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
14/صفر المصفر /1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ابرہیم قریشی بن عبد الرزاق | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


