| 91206 | نماز کا بیان | نماز کی سنتیں،آداب اورپڑھنے کا طریقہ |
سوال
ایک میرے دوست کا کہنا ہے کہ نماز میے قومہ میے ہاتھ باندھنا سنت ہے حدیث میے ہے کہ نبی قیام کی حالت میے ہاتھ باندھتے تھے تو اس حديثً میے فرق نہی کیا گیا اور وہ کہتے ہہے کہ عرب ممالک میے قومہ کہ بعد بھی ہاتھ باندھتے ہہے سوال یہ ہے کہ قومہ میے ہاتھ نہ باندھنے کے دلائل کیا۔ ہہے دلائل سے جواب دیے جزاک اللہ
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قول و عمل سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نماز سکھائی، اور ان کے ذریعے یہ طریقہ ہم تک تواتر کے ساتھ پہنچا۔ بہت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی مکمل اور تفصیلی کیفیت منقول ہے، اور بعض صحابہ کرام ؓ نے لوگوں کے سامنے باقاعدہ نماز پڑھ کر سکھائی۔ تاہم، ذخیرۂ حدیث میں کوئی ایک بھی ایسی صریح اور مرفوع روایت موجود نہیں جس میں صحابہ کرام ؓ نے نماز کی کیفیت بیان کرتے ہوئے قومہ (رکوع کے بعد قیام) میں ہاتھ باندھنے کا ذکر کیا ہو۔
سوال میں مذکورہ روایت کے اندر قیام کے دوران ہاتھ باندھنے کا جو ذکر ہے، اس سے مراد رکوع سے پہلے کا قیام ہے۔ چونکہ یہ قیام رکوع میں جانے پر ختم ہو جاتا ہے، اس لیے ہاتھ باندھنے کا حکم بھی وہیں ختم ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ثابت ہے" كان علي، إذا قام في الصلاة وضع يمينه على رسغ يساره، ولا يزال كذلك حتى يركع متى ما ركع، إلا أن يصلح ثوبه أو يحك جسده"۔کہ آپ جب قیام میں کھڑے ہوتے تو دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ کی کلائی پر رکھ دیتے اور اسی حالت میں رہتے یہاں تک کہ رکوع میں چلے جاتے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہاتھ باندھنے کا حکم رکوع پر ختم ہو جاتا ہے۔
لہٰذا رکوع کے بعد والے قیام (یعنی قومہ) میں ہاتھ باندھنے کی کوئی دلیل نہیں ہے۔
حوالہ جات
مصنف ابن أبي شيبة (1/ 343 ت الحوت):
3940 - حدثنا وكيع قال: حدثنا عبد السلام بن شداد الحريري أبو طالوت قال: نا غزوان بن جرير الضبي، عن أبيه قال: كان علي، إذا قام في الصلاة وضع يمينه على رسغ يساره، ولا يزال كذلك حتى يركع متى ما ركع، إلا أن يصلح ثوبه أو يحك جسده۔
سنن النسائي (2/ 209):
أخبرنا سويد بن نصر قال: أخبرنا عبد الله، عن موسى بن عمير العنبري وقيس بن سليم العنبري قالا: حدثنا علقمة بن وائل عن أبيه، قال: رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا كان قائما في الصلاة قبض بيمينه على شماله۔
حاشية ابن عابدين ، رد المحتار - ط الحلبي (1/ 488):
(له قرار فيه ذكر مسنون فيضع حالة الثناء، وفي القنوت وتكبيرات الجنازة لا) يسن (في قيام بين ركوع وسجود) لعدم القرار (و) لا بين (تكبيرات العيد) لعدم الذكر ما لم يطل القيام فيضع سراجية۔
عمدة القاري شرح صحيح البخاري (5/ 279):
والأصل فيه أن كل قيام فيه ذكر مسنون يعتمد فيه أعني اعتماد يده اليمنى على اليسرى وما لا فلا فيعتمد في حالة القنوت وصلاة الجنازة ولا يعتمد في القومة عن الركوع وبين تكبيرات العيدين الزوائد وهذا هو الصحيح۔
فتاوی دار العلوم دیو بند: ۲۴۳/۲
بندہ نے رسالہ اتمام الخشوع کو دیکھا، کوئی حدیث صریح اس بارے میں نقل نہیں کی گئی، جس سے بعد الرکوع صراحۃ ہاتھ باندھنا معلوم ہو، بلکہ روایت حضرت علی صلی اللہ عنہ جو صفحہ: ۷ کتاب مذکور میں منقول ہے، جس کے الفاظ یہ ہیں : أنه كان إذا قام إلى الصلاة وضع يمينه على الشمال ، فلا يزال كذلك حتى يركع سے معلوم ہوا کہ وضع يمين على الشمال قبل الرکوع تک ہوتا تھا، بہر حال حنفیہ کثرهم الله تعالیٰ اور جمہور سلف و خلف کا یہی مذہب ہے کہ بعد الرکوع ہاتھ چھوڑے جاتے ہیں ، پھر تعجب ہے کہ آپ بندہ کی رائے دریافت کرتے ہیں، بندہ کی رائے خلاف اپنے ائمہ اور جمہور کے کیسے ہو سکتی ہے؟
محمد ابراہیم قریشی بن عبدالرزاق
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
26/محرم الحرام /1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ابرہیم قریشی بن عبد الرزاق | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


