| 91324 | وقف کے مسائل | مسجد کے احکام و مسائل |
سوال
میرے والد صاحب مسجد میں خادم ہیں۔ مسجد میں لیموں وغیرہ کے پودے لگے ہوئے ہیں، کیا وہ لیموں وغیرہ گھر لا کر استعمال کر سکتے ہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگرلیموں لگانے والے نے عام لوگوں کے استعمال کے لیے لگایا ہو، تو لوگ اسے توڑ کر لے جا سکتے ہیں۔لیکن اگر یہ لیموں کا پودا مسجد کی آمدنی کے لیے لگایا گیا ہویا لگانے والے کی نیت معلوم نہ ہو، تو اسے فروخت کر کے اس کی قیمت مسجد کے مصارف میں صرف کرنا ضروری ہے۔ مسجد میں اس کی قیمت ادا کیے بغیر اس کا استعمال جائز نہیں ہوگا۔
حوالہ جات
البحر الرائق شرح كنز الدقائق (5/ 221):
"وفي الحاوي: و ما غرس في المساجد من الأشجار المثمرة إن غرس للسبيل و هو الوقف على العامة كان لكل من دخل المسجد من المسلمين أن يأكل منها، و إن غرس للمسجد لايجوز صرفها إلا إلى مصالح المسجد، الأهم فالأهم كسائر الوقف، وكذا إن لم يعلم غرض الغارس. اهـ".
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 432):
"في الحاوي: غرس في المسجد أشجارًا تثمر إن غرس للسبيل فلكل مسلم الأكل وإلا فتباع لمصالح المسجد.
(قوله: إن غرس للسبيل) وهو الوقف على العامة، بحر (قوله: وإلا) أي وإن لم يغرسها للسبيل بأن غرسها أو لم يعلم غرضه، بحر عن الحاوي، وهذا محل الاستدلال على قوله الظاهر: أنه إذا لم يعلم شرط الواقف لم يأكل، وهو ظاهر، فافهم."
محمد ابراہیم قریشی بن عبدالرزاق
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
5/صفرالمصفر /1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ابرہیم قریشی بن عبد الرزاق | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


