03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بطور وکالت کسی کے لئے چیز خرید کر پھر اس سے بطور مرابحہ اپنے لئے خریدنے کا حکم
91300خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

ایک شرعی مسئلہ دریافت کرنا ہے: ایک شخص موبائل خریدنا چاہتا ہے، لیکن اس کے پاس مکمل رقم موجود نہیں۔ موبائل ایک آن لائن پلیٹ فارم پر 60,000 روپے کا مل رہا ہے، جبکہ مقامی مارکیٹ میں اس کی قیمت زیادہ ہے۔ اس شخص نے دوسرے فرد سے درخواست کی کہ وہ اس کے لیے موبائل خرید دے۔ دوسرے فرد نے کہا کہ چونکہ اسے آن لائن خریداری کا تجربہ نہیں، اس لیے وہ 60,000 روپے اس شخص کو ٹرانسفر کر دیتا ہے اور وہ اس کی طرف سے موبائل خرید لے۔ چنانچہ اس نے 60,000 روپے وصول کرکے دوسرے فرد کی طرف سے موبائل خرید لیا۔ تین دن بعد موبائل وصول ہوگیا۔ موبائل وصول ہونے کے بعد دونوں کے درمیان یہ معاملہ طے ہوا کہ موبائل قسطوں پر 75,000 روپے میں فروخت کیا جائے گا۔ موبائل وصول ہونے کے بعد خریدار نے 20,000 روپے بطور ایڈوانس ادا کر دیے اور باقی 55,000 روپے بارہ ماہ کی قسطوں میں ادا کرنے کا معاہدہ کر لیا۔

اب درج ذیل امور میں شرعی رہنمائی مطلوب ہے:

  1. کیا یہ معاملہ شرعاً درست ہے؟ کیامذکورہ صورت مرابحہ / بیع بالتقسیط کے حکم میں آئے گی یا اس میں سود یا کسی اور شرعی خرابی کا اندیشہ ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اس طرح کسی کے لئے بطورِ وکالت کوئی چیز خرید کر، پھر اس سے قسطوں پر اپنے لئے خریدنا، شرعاً جائز ہے۔ اسلامی تجارتی اصولوں کی رو سے، یہ "مرابحہ مؤجلہ" کے تحت آتا ہے۔ اس میں قیمت قسطوں میں لینے کی وجہ سے جو اضافی رقم، مثلاً مسئولہ صورت میں (15,000 روپے)، لیے جاتے ہیں، وہ شرعاً سود (ربا) نہیں، بلکہ جائز تجارتی منافع ہے۔ البتہ، اس پورے لین دین کے شرعاً درست ہونے اور اسے سودی خرابی سے محفوظ رکھنے کے لیے، دو بنیادی باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے:

  • بیع کے دونوں معاملات کا الگ الگ ہونا: اس طرح، پہلے مؤکل اور پھر اپنے لئے خریداری کے دونوں معاملات مستقل اور الگ الگ کیے جائیں۔ یعنی پہلی بیع کے بعد دوسری بیع مستقلاً ہو، مگر پہلے سے اس کی شرط نہ لگائی جائے۔ ہاں، پہلے سے صرف خریداری کا وعدہ ہو، تو کوئی حرج نہیں۔
  • رسک اور ضمانت: جب تک دوسری بیع مکمل نہ ہو جائے، موکل اس سامان کے رسک اور ضمان کے لیے تیار ہو۔ یعنی، ڈلیوری کے دوران اور وکیل کے پاس پہنچنے کے بعد بیع ہونے تک، وہ چیز موکل کی ملکیت اور رسک میں ہونی چاہیے۔
حوالہ جات

(المعاییر الشرعیہ)

٣ / ١ / ٥ يجب الفصل بين الضمانين: ضمان المؤسسة، وضمان العميل الوكيل عن المؤسسة في شراء السلعة لصالحها، وذلك بتخلل مدة بين تنفيذ الوكالة وإبرام عقد المرابحة من خلال الإشعار من العميل بتنفيذ الوكالة والشراء، ثم الإشعار من المؤسسة بالبيع (ينظر الملحق «أ» والملحق «ب»).

٣ / ٢ قبض المؤسسة السلعة قبل بيعها مرابحة:

 ٣ / ٢ / ١ يجب التحقق من قبض المؤسسة للسلعة قبضًا حقيقيًّا أو حكميًّا قبل بيعها لعميلها بالمرابحة.

 ٣ / ٢ / ٢ الغرض من اشتراط قبض السلعة هو تحمل المؤسسة تبعة هلاكها، وذلك يعني أن تخرج السلعة من ذمة البائع وتدخل في ذمة المؤسسة. ويجب أن تتضح نقطة الفصل التي ينتقل فيها ضمان السلعة من المؤسسة إلى العميل المشتري وذلك من خلال مراحل انتقال السلعة من طرف لآخر.

 ٣ / ٢ / ٣ إن كيفية قبض الأشياء تختلف بحسب حالها واختلاف الأعراف فيما يكون قبضًا لها، فكما يكون القبض حسيًّا في حالة الأخذ باليد أو النقل أو التحويل إلى حوزة القابض أو وكيله يتحقق أيضًا اعتبارًا وحكمًا بالتخلية مع التمكين من التصرف ولو لم يوجد القبض حسًّا. فقبض العقار يكون بالتخلية وتمكين اليد من التصرف، فإن لم يتمكن المشتري من المبيع فلا تعتبر التخلية قبضًا، أما المنقول فقبضه بحسب طبيعته.

مُلْحَقُ ( أ )

الإشعار بتنفيذ الوكالة والإيجاب بالشراء من قبل الآمر بالشراء

الإشعار بتنفيذ الوكالة والإيجاب بالشراء من قبل الآمر بالشراء: إشعار تنفيذ الوكالة والإيجاب بالشراء من: (وكيل المؤسسة) ........................ إلى: (المؤسسة) ........................

تنفيذًا لعقد الوكالة، أفيدكم بأني قد اشتريت البضاعة الموصوفة أدناه بالنيابة عنكم لصالحكم، وهي في حيازتي بالنيابة عنكم. وبناء على الوعد مني لكم بالشراء، فقد اشتريتها منكم بثمن إجمالي قدره ........................ وهو يتكون من ثمن التكلفة ........................ مضافًا إليه ربح ........................ ويقع تسديد الثمن حسب الأقساط المحددة فيما يأتي:

  • ........................................................................
  • ........................................................................
  • ........................................................................

وتفضلوا بإرسال القبول وفق هذا الإيجاب

مُلْحَقُ ( ب )

الإشعار بالقبول وبالبيع من قبل المؤسسة

إشعار القبول بالبيع: من: ........................ (المؤسسة) إلى: (وكيل المؤسسة) ........................

جوابًا عن كتابكم المؤرخ ........................ المتضمن الإيجاب بشراء البضاعة المملوكة لنا والموصوفة أدناه، نفيدكم أننا بعناها إليكم بثمن إجمالي قدره ........................ يتكون من ثمن التكلفة ........................ مضافًا إليه ربح ........................، وذلك حسب الشروط المبينة في الاتفاقية العامة للمرابحة.

وتفضلوا بقبول فائق الاحترام (یا حسبِ ضرورت اختتامی کلمات)

 محمدسعید خان آفریدی

 دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

4/صفر /1448ھ  

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد سعید خان آفریدی بن معین خان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب