03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مخلوط نظام تعلیم میں لڑکیوں کے لیے شرعی احکام
91585جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

السلام علیکم مفتی صاحب! میں یونیورسٹی میں پڑھتی ہوں۔ کلاس میں لڑکے بھی ہوتے ہیں، ان کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا بھی ہوتا ہے۔ شریعت کی رو سے ان سے ملنا جلنا اور ضرورت کے مطابق گفتگو کرنا کیسا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

1-واضح  رہےکہ شرعی نقطہ نظر سے مخلوط تعلیمی نظام درست نہیں ، اس لیے لڑکیوں کو چاہیے کہ وہ صرف ایسی ضروری تعلیم حاصل کریں ،جو ان کے لئے مناسب  اور وقت کی ضرورت ہو۔ اوراس کے لئے  ایسے اداروں کا انتخاب کریں ،جہاں لڑکوں اور لڑکیوں کا اختلاط نہ ہو۔ تاہم، اگر کوئی متبادل  میسر نہ ہو اور شدید تعلیمی مجبوری کے تحت ایسے ادارے میں تعلیم حاصل کرنی پڑے، جہاں غیر محرم لڑکے یا مرد اساتذہ موجود ہوں، تو کسی بھی غیر محرم لڑکے یا مرد سے بلا ضرورت گفتگو کرنا، ہنسی مزاح کرنا یا ان کے سوالات کا جواب دینا ہرگز جائز نہیں  ؛ البتہ تعلیمی ضرورت کے  پیش نظر بوقت ضرورت بقدر ضرورت، سنجیدہ لہجے اور مکمل شرعی پردے کا اہتمام کرتے ہوئے بات کرنے کی گنجائش ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بلا ضرورت غیر محرم کو دیکھنا بھی جائز نہیں ہے، بلکہ حتی الامکان نظروں کی حفاظت کرنا لازمی  ہے۔ فقہاء نے صراحت کی ہے کہ عورت کی آواز میں بھی پردہ کا پہلو شامل ہے، لہٰذا غیر محرم سے گفتگو میں انتہائی احتیاط ضروری ہے اور بلا ضرورت اختلاط سے بچنا واجب ہے۔

حوالہ جات

فقوله تعالى: وقل للمؤمنات يغضضن من أبصارهن أي عما حرم الله عليهن من النظر إلى غير أزواجهن، ولهذا ذهب كثير من العلماء إلى أنه لا يجوز للمرأة أن تنظر إلى الرجال الأجانب بشهوة ولا بغير شهوة أصلا.

واحتج كثير منهم بما رواه أبو داود والترمذي من حديث الزهري عن نبهان مولى أم سلمة أنه حدث أن أم سلمة حدثته أنها كانت عند رسول الله -صلى الله عليه وسلم- وميمونة قالت: فبينما نحن عنده أقبل ابن أم مكتوم فدخل عليه وذلك بعد ما أمرنا بالحجاب فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم -):احتجبا منه( فقلت: يا رسول الله أليس هو أعمى لا يبصرنا ولا يعرفنا ؟ فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم:- أو عميا وان أنتما؟ ألستما تبصرانه»،ثم قال الترمذي هذا حديث حسن صحيح.

وذهب آخرون من العلماء إلى جواز نظرهن إلى الأجانب بغير شهوة كما ثبت في الصحيح أن رسول الله- صلى الله عليه وسلم -جعل ينظر إلى الحبشة وهم يلعبون بحرابهم يوم العيد في المسجد وعائشة أم المؤمنين تنظر إليهم من ورائه وهو يسترها منهم حتى ملت ورجعت وقوله ويحفظن فروجهن ، قال سعيد بن جبير عن الفواحش. وقال قتادة وسفيان: عما لا يحل لهن. وقال مقاتل: عن الزنا ."

(تفسیر ابن کثیر ، 41/6)

وصرح في النوازل بأن نغمة المرأة عورة وبنى عليه أن تعلمها القرآن من المرأة أحب إلي من تعلمها من الأعمى ولهذا قال - صلى الله عليه وسلم- التسبيح للرجال والتصفيق للنساء» فلا يجوز أن يسمعها الرجل ومشى عليه المصنف في الكافي فقال ولا تلبي جهرا؛ لأن صوتها عورة ومشى عليه صاحب المحيط في باب الأذان وفي فتح القدير وعلى هذا لو قيل إذا جهرت بالقرآن في الصلاة فسدت كان متجها."

(البحر الرائق شرح کنز الدقائق، 285/1 )

قال في تبيين المحارم: وأما فرض الكفاية من العلم، فهو كل علم لا يستغنى عنه في قوام أمور الدنيا كالطب.

(الدر المختار وحاشية ابن عابدين، 1/42)

عبدالرحیم  بن سید جنان

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی  

11/صفرا لمظفر /1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبد الرحیم بن سید جنان

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب