03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
منگیتر سے میل جول کا شرعی حکم
91588جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

مفتی صاحب! میری ایک جگہ منگنی ہو چکی ہے، لیکن ابھی نکاح نہیں ہوا۔ میرا منگیتر مجھ سے فون پر بات کرنا اور باہر ملاقات کرنا چاہتا ہے تاکہ ہم ایک دوسرے کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔ کیا شرعاً میرے لیے اس سے فون پر بات کرنا یا تنہائی میں ملاقات کرنا جائز ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہےکہ منگنی صرف وعدہ  نکاح  ہے، یہ باقاعدہ نکاح نہیں ؛ اس لیے منگنی کے بعد بھی منگیتر دیگر تمام اجنبی مردوں کی طرح شریعت کی نظر میں نامحرم ہی رہتا ہے۔ جس طرح نا محرم سےتعلقات رکھنا ،ملنا جلنا ،اور ہنسی مذاق یا بغیر ضرورت بات چیت کرنا جائز نہیں،اسی طرح منگیتر سے  فون یا میسجز پر بات چیت کرنا، تنہائی میں ملنا، یا باہر گھومنے کے لئےجانا شرعاً ناجائز ہے۔لہذا  ایک دوسرے کو سمجھنے کے نام پر یہ غیر شرعی روابط گناہ کا باعث ہیں،اس  لیے اس  سے گریز کرنا چاہیے۔

لہذا سائلہ کو چاہیےکہ ایسے تعلقات  رکھنےسے اجتناب کرے ، اور دونوں (لڑکا اور لڑکی) اپنے خاندان والوں کو نکاح کرنے کی طرف  راغب کریں، اگر چہ باقاعدہ رخصتی بعد میں کرنی  ہو،تاکہ  آپ کا ایک دوسرے سے بات کرنا اور ملنا جلنا شرعاً جائز ہو جائے ۔

حوالہ جات

فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَضٌ وَقُلْنَ قَوْلًا مَعْرُوفًا . 

(سورة الأحزاب،32)

"المخطوبة تعتبر أجنبية من خاطبها، فتحرم الخلوة بها كغيرها من الأجنبيات، وهذا باتفاق."

(الموسوعة الفقهية الكويتية،/269 19)

"بينا أن الخطبة ليست زواجاً، وإنما هي مجرد وعد بالزواج، فلا يترتب عليها شيء من أحكام الزواج، ولا الخلوة بالمرأة أو معاشرتها بانفراد؛ لأنها ما تزال عليه أجنبية عن الخاطب، وقد نهى الرسول صلى الله وسلم في الأحاديث السابقة عن الخلوة بالأجنبية وعن الجلوس معها إلا مع محرم كأبيها أو أخيها أوعمها، ومن تلك الأحاديث: «لا يخلون رجل بامرأة لا تحل له، فإن ثالثها الشيطان، إلا محرم» .

وفي هذا القدر أمان وضمان و بعد عن التعرض لمخاطر الاحتمالات في المستقبل من فسخ الخطوبة وغيره، وبه يتحقق المطلوب بالجلوس والتحدث إلى المرأة عند وجود محرم لها، وهذا هو الموقف الحكيم المعتدل دون إفراط ولا تفريط.

وأما المعاشرة قبل الزواج والذهاب معاً إلى الأماكن العامة وغيرها، فهو كله ممنوع شرعاً، بل إنه لا يحقق الغاية المرجوة، إذ كل منهما يظهر بغير حقيقته."

(الفقہ الاسلامی وادلتہ ، 5089/)

منگنی کی جو مجلسیں منعقد کی جاتی ہیں وہ صرف رشتہ اور ناطہ مقرر کرنے کے لئے کی جاتی ہیں ۔ اس میں جو الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں وہ وعدہ کی حد تک رہتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ منگنی کی مجلس کے بعد فریقین بھی اس کو نکاح قرار نہیں دیتے بلکہ اس کے بعد نکاح کی مجلس منعقد کی جاتی ہے اور نکاح پڑھایا جاتا ہے اس لئے ان مجالس کے الفاظ میں عرف یہی ہے کہ وہ بقصد وعدہ کیے جاتے ہیں نہ بقصد نکاح ۔ ورنہ نکاح کے بعد پھر مجلس نکاح منعقد کرنے کے لئے کوئی معنی نہیں ۔ نیز منگنی کی مجلس کے بعد منکوحہ سے اگر زوج تعلقات زن شوئی کا مطالبہ کرے تو کوئی بھی اس کے لئے آمادہ نہیں ہوتا بلکہ کہتے ہیں کہ نکاح تو ہوا ہی نہیں عورت کو مرد کے پاس کیسے بھیج دیا جائے ، بہر حال منگنی کی مجلس وعدے کی مجلس ہے اس کے الفاظ سب وعدہ پر محمول ہوں گے ۔ کیونکہ عرف یہی ہے ۔ لہذا اس کو نکاح قرار دینا درست نہیں، البتہ اگر منگنی کی مجلس میں صریح لفظ نکاح استعمال کیا جائے ۔ مثلاً زوج یا اس کا ولی یوں کہے کہ میں نے اپنی لڑکی کا نکاح تیرے ساتھ کر دیا تو نکاح ہو جائے گا۔

(کفایت المفتی ،49 / 5)

عبدالرحیم بن سید جنان

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی 

  11/صفرا لمظفر /1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبد الرحیم بن سید جنان

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب