| 91164 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
آج کل بعض لوگ کمپیوٹر پر مختلف ویڈیو گیمز کھیلتے ہیں اور کھیلتے وقت اپنی گیم کی ویڈیو ریکارڈ کر لیتے ہیں۔بعد ازاں وہ ان ریکارڈ شدہ ویڈیوز کو یوٹیوب پر اپ لوڈ کرتے ہیں،جہاں لوگ ان ویڈیوز کو دیکھتے ہیں۔یوٹیوب ان ویڈیوز پر آنے والے اشتہارات اور ویوز کی بنیاد پر ویڈیو بنانے والے کو رقم ادا کرتا ہے۔دریافت طلب مسئلہ یہ ہے کہ یوٹیوب پر (ویڈیوز) اپ لوڈ کرنے اور اس کے بدلے یوٹیوب سے حاصل ہونے والی آمدنی کا شرعاکیا حکم ہے؟ کیا یہ آمدنی حلال شمار ہوگی یا حرام؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں یوٹیوب پر گیمنگ ویڈیوزاپ لوڈ کرکے ان کے ذریعےحاصل ہونے والے آمدنی کا شرعی حکم اس بات پر منحصر ہے کہ اپ لوڈ کی جانے والی ویڈیوز کا مواد کیا ہے، آیا اس میں شرعاً ممنوعہ امور ہیں یا نہیں، نیز اس کے ذریعے نشر ہونے والے اشتہارات کی نوعیت کیا ہے۔ لہٰذا مذکورہ عمل مطلقاً جائز یا ناجائز نہیں، بلکہ انہی امور کے اعتبار سے اس کے جواز یا عدم جواز کا حکم متعین کیا جا سکتا ہے۔
سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ ایسے گیمز کھیلنا بذات خود جائز ہیں یا نہیں۔شریعت مطہرہ میں کھیلوں کے جواز سے متعلق شرعی ضابطہ یہ ہے:
1 ۔کہ وہ کھیل بذات خود جائز ہو، اس میں کوئی ناجائز بات نہ ہو۔
2۔ اس کھیل میں کوئی دینی یا دنیوی منفعت مثلاً جسمانی ورزش وغیرہ ہو، محض لہو لعب یا وقت گزاری کے لیے نہ کھیلا جائے ۔
3 ۔اس کھیل میں غیر شرعی امور (جو ے یا کسی بھی نا جائز عقد) کا ارتکاب نہ کیا جاتا ہو۔
4۔ اور اس کھیل میں اتنا غلو نہ کیا جائے کہ جس سے شرعی فرائض میں کوتاہی یا غفلت پیدا ہو۔
موجودہ دور کے ڈیجیٹل گیمز میں اکثر و بیش تر مذکورہ بالا شرائط مفقود ہیں، لہذا جس گیم میں کوئی بھی ناجائز بات ہو، مثلاً جوا ،فحش تصاویر یا ویڈیوز وغیرہ ہوں، وہ کھیلنا ناجائز ہے۔اور جس گیم میں مذکورہ بالا تمام شرائط کا لحاظ رکھا جائے،اور کوئی ناجائز بات پر مشتمل نہ ہو ،تو شرعا اس کی گنجائش دی جاتی ہے۔
رہی بات ویڈیوز اپ لوڈ کرنے کی چنانچہ اگر اپ لوڈ کی جانے والی ویڈیو زکسی ایسے گیمز کی ہوں، جو بذات خودشرعی حدود کے اندر ہو،اور اس میں شرعاًکوئی ممنوعہ امر موجود نہ ہو، مثلاً موسیقی، فحش یا عریاں مناظر، کفریہ یا شرکیہ علامات کی تشہیر ، قمار، یا دیگر ناجائز امور نہ ہوں، اور ان گیمز کو بنانے یا دیکھنے سےفرائض و واجبات میں کوتاہی لازم نہ آتی ہوں، مزیدیہ کہ گیمنگ ویڈیوزپر یوٹیوب کی جانب سے آنے والے اشتہارات بھی ناجائز اشیاء یا خدمات کی تشہیر پر مشتمل نہ ہوں، تو ایسی گیمز کی ویڈیو اپ لوڈ کرنے اور اس کے عوض یوٹیوب سے آمدنی حاصل کرنے کی گنجائش دی جاسکتی ہے؛ کیونکہ یہ مباح تشہیری خدمت کے عوض اجرت شمار ہوگی۔
لیکن اگرگیمز بذات خود ناجائز امور پر مشتمل ہوں ، یا یوٹیوب کے ذریعے ایسے اشتہارات نشر ہوں، جن میں موسیقی، بے پردگی، حرام مصنوعات یا دیگر ممنوعات کی تشہیر ہوتی ہو، تو ایسی گیمز کی ویڈیوز کو ذریعۂ آمدنی بنانا جائز نہیں؛ کیونکہ یہ تعاون علی الاثم کے زمرے میں داخل ہے۔
لہٰذا موجودہ دور میں چونکہ اکثر گیمنگ ویڈیوز موسیقی،جو ا ،نامحرم لڑکیوں ،نیم برہنہ اور دوسری فحش قسم کے تصاویر اور دیگر شرعی قباحتوں سے خالی نہیں ہوتیں، اور یوٹیوب کے اشتہارات پر بھی اپ لوڈ کرنے والے کا مکمل اختیار نہیں ہوتا، اس لیے اس ذریعۂ آمدنی سے اجتناب کرنا زیادہ محتاط اور تقویٰ کے قریب ہے۔ البتہ اگر کوئی شخص شرعی قباحتوں سے پاک مواد پیش کرے، اور اس کے لئے تمام ضروری اقدامات کریں (گوگل کو ناجائز مواد مثلا فحش تصویر وغیرہ کی تشہیرکا اجازت نہ دے ،اور کیٹگریز فلٹر کرے)،لیکن اس کے باوجود بھی اگر کوئی ایسا اشتہا رگوگل کی طرف سے لگ جائے جو کسی نا جائز کاروبار کی جانب لے جا رہا ہو، یا نا جائز مواد پر مشتمل ہو ، تو اس کا گناہ ویڈیو اپ لوڈ کرنے والے کو نہیں ہوگا، البتہ اس کےذمہ یہ لازم ہے کہ ایڈریویو سینٹرجائےاور وہاں اشتہارات کا جائزہ لے کرنا جائز اشتہارات کی آمدن کو صدقہ کرے ۔
حوالہ جات
ومن الناس من يشتري لهو الحديث ليضل عن سبيل الله بغير علم ويتخذها هزوا أولئك لهم عذاب مبين (لقمان (6) ، استدل ابن مسعود وابن عباس وغيرهما رضى الله تعالى عنهم بقوله " لهو الحديث على منع استماع المزامير والغناء بالألحان وآلات الطرب.
(التفسير المنير للزحيلي، 134/21)
قال الله تعالى : قل للمؤمنين يغضوا من أبصارهم ويحفظوا فروجهم "، قال أبو بكر: معقول من ظاهره أنه أمر بغض البصر عما حرم علينا النظر إليه فحذف ذكر ذلك اكتفاء بعلم المخاطبين بالمراد، وقد روى محمد بن إسحاق عن محمد بن إبراهيم عن سلمة بن أبي الطفيل عن علي۔ رضى الله تعالى عنهم۔ قال: قال رسول الله ﷺ: يا علي إن لك كنزا في الجنة وإنك ذو وفر منها، فلا تتبع النظرة النظرة فإن لك الأولى وليست لك الثانية.
(أحكام القرآن للجصاص ت قمحاوي ،171/5)
فالضابط في هذا ... أن اللهو المجرد الذي لا طائل تحته، وليس له غرض صحيح مفيد في المعاش ولا المعاد حرام او مكروه تحريماً ... وما كان فيه غرض ومصلحة دينية أو دنيوية، فإن ورد النهي عنه من الكتاب أو السنة ... كان حراماً أو مكروهاً تحريماً ... وأما ما لم يرد فيه النهي عن الشارع وفيه فائدة و مصلحة للناس، فهو بالنظر الفقهي على نوعين ، الأول ما شهدت التجربة بأن ضرره أعظم من نفعه ومفاسده أغلب على منافعه، وأنه من اشتغل به الهاه عن ذكر الله وحده وعن الصلاة و المساجد التحق ذلك بالمنهي عنه، لاشتراك العلمة فكان حراماً أو مكروها، والثاني ماليس كذالك فهو أيضاً إن اشتغل به بنية التلهي والتلاعب فهو مكروه، وإن اشتغل به تحصيل تلك المنفعة وبنية استجلاب المصلحة فهو مباح، بل قدير تقى إلى درجة الاستحباب أو أعظم . ، و علي هذا الأصل فالألعاب التي يقصد بها رياضة الأبدان أو الأذهان جائزة في نفسها مالم يشتمل على معصية أخري، وما لم يؤد الانهماك فيها إلى الاخلال بواجب الإنسان في دينه ودنياه.
(تكملة فتح الملهم،35 4/4)
وإذا استأجر الذمي من المسلم دارا يسكنها فلا بأس بذلك، وإن شرب فيها الخمر أو عبد فيها الصليب أو أدخل فيها الخنازير ولم يلحق المسلم في ذلك بأس ؛لأن المسلم لا يؤاجرها لذلك إنما آ جرها للسكنى. كذا في المحيط.
(الفتاوى الهندية، 50 44/)
عبدالرحیم بن سید جنان
دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی
27/محرم الحرام /1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبد الرحیم بن سید جنان | مفتیان | مفتی محمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


