| 91548 | ہبہ اور صدقہ کے مسائل | ہبہ کےمتفرق مسائل |
سوال
میری والدہ وفات پا چکی ہیں۔ جب میری شادی ہوئی تو میری ساس نے میری مرحوم والدہ کو ایک تولہ سونا دیا، لیکن یہ سوچ کر کہ یہ میری بیوی کو جائے گا۔ تو یہ سونا کس کا ہوا ؟
وضاحت از سائل: ساس کی نیت سونا بیوی ہی کو دینے کی تھی، اور یہ سونا شادی کی تقریب میں دیا گیا تھا۔ چونکہ شادی کی تقریب میں تحفہ بطورِ احترام گھر کے بڑوں کے ہاتھ میں پیش کیا جاتا ہے، اس لیے سونا والدہ کے ہاتھ سپرد کیا گیا تھا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر یہ بات یقینی ہے کہ آپ کی ساس کی نیت یہ تھی کہ سونا آپ کی بیوی ہی کو دیا جائے، آپ کی والدہ کو محض واسطے یا رسم کے طور پر دیا گیا تھا، تو یہ سونا آپ کی بیوی کی ملکیت شمار ہوگا۔
حوالہ جات
الهداية شرح بداية المبتدي (3/ 226):
قال: وإن وهب هبة لذي رحم محرم منه فلا رجوع فيها. لقوله عليه الصلاة والسلام: إذا كانت الهبة لذي رحم محرم منه لم يرجع فيها؛ ولأن المقصود فيها صلة الرحم وقد حصل وكذلك ما وهب أحد الزوجين للآخر؛ لأن المقصود فيها الصلة كما في القرابة، وإنما ينظر إلى هذا المقصود وقت العقد، حتى لو تزوجها بعدما وهب لها فله الرجوع، ولو أبانها بعدما وهب فلا رجوع.
درر الحكام شرح مجلة الأحكام (2/ 428):
( المادة 876 ) : الهدايا التي تأتي في الختان أو الزفاف تكون لمن تأتي باسمه من المختون أو العروس أو الوالد والوالدة وإن لم يذكر أنها وردت لمن ولم يمكن السؤال والتحقيق فعلى ذلك يراعى عرف البلدة وعادتها . يعني إذا كان المهدى له بالغا يملك الهدية بقبضه نفسه ، وإن كان صغيرا بقبض وليه أو وصيه أو مربيه .
محمد ابرار الحق
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
13/صفر/1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ابرار الحق بن برھان الدین | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


