03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ملازمین کو مہیا کی گئی گاڑیوں پرزکوۃکاحکم
90571زکوة کابیانسامان تجارت پر زکوۃ واجب ہونے کا بیان

سوال

ایک کمپنی اپنے ملازمین کو گاڑیاں دیتی ہے، اس کی پالیسی یہ ہے کہ وہ گاڑی کسی بینک سے اجارہ یا شرکت متناقصہ کے ذریعہ لے کر ملازمین کو دے دیتے ہیں اور اس پر ملکیت کمپنی کی ہوتی ہے۔ 5 سال کے بعد ملازمین کو اختیار ہو گا کہ وہ اس گاڑی کو آدھی قیمت پر خرید لیں یاکمپنی کو گاڑی واپس کر دیں اور آدھی قیمت لے لیں اور کمپنی مارکیٹ میں گاڑی کو بیچ کر آدھی قیمت ملازم کو دے دے گی۔ اب یہ 5 سال کے بعد فروخت کی نیت تو خریدتے وقت ہی ہے لیکن یہ اصل نیت نہیں، اصلا وہ گاڑی تو ملازم کو مہیا کی گئی ہے، 5 سال بعد چونکہ وقت پورا ہو گیا تو اب بیچنے کے علاوہ کوئی آپشن کمپنی کے پاس نہیں تو: کیا اس پالیسی کی وجہ سے ان گاڑیوں کو مالِ تجارت سمجھا جائے گا؟ اگر یہ مالِ تجارت ہے تو پھر جتنے یونٹ پر کمپنی کی ملکیت آ چکی ہے تو صرف اس کی زکوٰۃ ادا کرنی ہو گی؟ اور کیا بقیہ اقساط کو قابل زکوٰۃ اثاثہ جات میں سے منفی کیا جائے گا؟

واضح رہے کہ یہ کمپنی ایک ہی شخص کی ہے اس لیے وہ کمپنی کی زکوۃ نکالتے ہیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورت مسئولہ میں چونکہ گاڑیوں کوبیچنےکی نیت سےخریداگیاہےاورتجارت کی نیت آخرتک برقراربھی رہتی ہے،لہذاشرکتِ متناقصہ کی صورت میں ان گاڑیوں کےجتنےیونٹس کی کمپنی مالک بن چکی ہے،اتنےیونٹس کےتناسب سےقیمتِ فروخت کاتخمینہ لگاکر زکوۃ اداکی جائےگی۔

واضح رہےکہ یہ صورت عقدِاجارہ میں پیش نہیں آتی کیونکہ اس میں عقدکےاختتام تک اثاثہ پرملکیت بینک کی ہوتی ہے،لہذااس میں کمپنی پرزکوۃ واجب نہیں ہوگی۔

حوالہ جات

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع :(2/ 11)

أما الصريح فهو أن ينوي عند عقد التجارة أن يكون المملوك به للتجارة بأن اشترى سلعة ونوى أن تكون للتجارة عند الشراء فتصير للتجارة

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) :(2/ 272)

(قوله فنوى بعد ذلك خدمته) أي، وأن لا يبقى للتجارة لما في الخانية عبد التجارة: إذا أراد أن يستخدمه سنتين فاستخدمه فهو للتجارة على حاله إلا أن ينوي أن يخرجه من التجارة ويجعله للخدمة.

فتاوى قاضيخان (1/ 120)

وإن كان يعلفها في بعض السنة فالعبرة لأكثر السنة فإن كانت راعية في نصف السنة لم تكن سائمة وإن كانت للتجارة فرعاها ستة أشهر أو أكثر لم تكن سائمة إلا أن ينوي أن يجعلها سائمة بمنزلة عبد التجارة إذا أرادت أن يستخدمه سنين فيستخدمه فهو للتجارة على حاله إلا أن ينوي أن يخرجه من التجارة ويجعله للخدمة

الفتاوى الهندية (1/ 177)

وإن كانت للتجارة فرعاها ستة أشهر أو أكثر لم تكن سائمة إلا أن ينوي أن يجعلها سائمة بمنزلة عبد التجارة إذا أراد أن يخدمه سنين فيستخدمه فهو للتجارة على حاله إلا أن ينوي أن يخرجه من التجارة ويجعله للخدمة كذا في الخلاصة.

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع :(2/ 9)

وأما الشرائط التي ترجع إلى المال فمنها: الملك فلا تجب الزكاة في سوائم الوقف والخيل المسبلة لعدم الملك وهذا؛ لأن في الزكاة تمليكا والتمليك في غير الملك لا يتصور.

المعايير الشرعیۃ(345):

المشاركة المتناقصة عبارة عن شركة يتعهد فيها أحد الشركاء بشراءحصة الآخر تدريجيا إلى أن يتملك المشتري المشروع بكامله۔

وفیہ أيضاً (261):

أما الإجارة المنتهية بالتمليك المشروعة، فإنها تطبق فيها أحكام الإجارة على العين المؤجرة إلى نهاية مدة الإجارة، ثم يحصل التمليك إلى المستأجر على النحو المبين في المعيار۔

وفیہ أيضاً(251):

العین المؤجرۃ أمانة عند المستأجرفلا يضمنها إلا إذاحصل الهلاك بالتعدي أو التقصير منه۔

فیصل حیات بن خان بہادر

دارلافتاء جامعۃ الرشید کراچی

04/ذو الحجۃ /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

فیصل حیات بن خان بہادر

مفتیان

فیصل احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / شہبازعلی صاحب