03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بدن اور کپڑوں کو نجاست لگ جانے کا شک اور وسوسہ
90303پاکی کے مسائلپانی کے مسائل

سوال

گذارش ہے کہ مجھے شک کی بیماری ہے، لہذا یہ رہنمائی فرما ئیں کہ جس یقین کی بات ہم طہارت کے مسئلے میں کرتے ہیں وہ کس طرح حاصل ہوتا ہے یعنی اثر نجاست رنگ، بو ،یا کسی متقی سے سننا وغیرہ؟کیا اس کے علاوہ بھی کوئی طریقہ ہوتا ہے ؟

 یہ محسوس ہوناکہ مثلا پیشاب کی چھینٹیں لگ گئی، یا کوئی اور نجاست لگ گئی، جیسے بارش کے پانی کے بارے میں یقین ہو کہ وہ ناپاک ہے،  لیکن چھینٹیں لگ جانے کا شک ہو، یا صرف ایسا  محسوس ہوجائے کہ لگ گئی اور  دکھائی نہ دیتا ہو،اس کا کیا حکم ہے؟

 چھینٹیں لگ جانے کا شک ہونا، یا صرف ایسا  محسوس ہوجانایہ بھی یقین میں شمار کیا جائے گا یا نہیں؟کیونکہ بہرحال ایسا تو لگتا ہے ٹھنڈا ٹھنڈا  محسوس  ہوتا ہے کہ کچھ ا ٓکر لگا ہو ،لیکن جب  نظر ڈالتے ہیں  تو کبھی نظر آتاہے اور  کبھی نہیں، اور کبھی دیکھنا ممکن بھی نہیں ہوتا؟

اسی طرح   اگر کسی دوسرے بندے کی وجہ سے  نجاست لگنے کا ڈر ہو جیسے کہ وہ واش روم سے ا ٓکر ہاتھ دھو رہا ہو اور چھینٹیں پڑ جائیں ، تو اس صورت  میں اس سے یہ   سوال کرنا ضروری  ہے یا نہیں کہ: بھائی تمہارے ہاتھ صاف تھے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

طہارت و نجاست کےمسائل میں اصول یہ ہے کہ جو چیز یقین کے ساتھ ثابت ہو، وہ   شک سے ختم نہیں ہوتی۔ لہٰذا     اگر بدن، کپڑا، فرش یا کوئی اور چیز اصل میں  پاک ہو، تو صرف شک کی بنا پر اسے ناپاک قرار نہیں دیا جائے گا ۔

نجاست کا علم عموماً اس وقت حاصل ہوتا ہے جب انسان خود نجاست کو  دیکھ لے، یا اس کا اثر جیسے رنگ، بو یا  نشان ظاہر ہو، یا کسی  دیانت دار  شخص کی خبر سے معلوم ہو، یا  اس کو خود  پتہ چل جائے کہ نجاست لگی ہے۔ ان صورتوں میں نجاست کا حکم ثابت ہوگا۔لیکن اگر صرف یہ محسوس ہو کہ شاید پیشاب کی چھینٹ لگ گئی ہے، یا کوئی اور نجاست لگی  ہے،یا         دل میں صرف یہ خیال پیدا ہو جائے کہ شاید کپڑا یا بدن ناپاک ہوگیا ہے، جبکہ نہ کوئی واضح نشان موجود ہو، نہ نجاست نظر آئے، اور نہ ہی اس کا علم  حاصل ہو، تو یہ سب صرف شک اور وہم کے درجے میں شمار ہوگا۔ شریعت میں ایسے شک کا اعتبار نہیں کیا جاتا۔

اسی طرح بارش کے پانی کے بارے میں اصل حکم پاک ہونے کا ہے۔ اگر کسی جگہ ناپاک پانی  ہو، لیکن صرف یہ شک ہو کہ شاید اس کی چھینٹ بدن یا کپڑے پر لگ گئی ہے، یا صرف ایسا محسوس ہو کہ کچھ لگا ہے، مگر نجاست دکھائی نہ دے، تو شرعًا  اسے ناپاک نہیں کہا جائے گا۔ محض محسوس ہونا یا شک ہونا یقین کے قائم مقام نہیں ہوتا۔خصوصًا جب کسی کو  وسوسے کی بیماری ہو، اس کے لیے زیادہ ضروری ہے کہ وہ ایسے اوہام کی طرف توجہ نہ دے، بار بار کپڑے یا بدن کو چیک نہ کرے، طہارت کو باقی سمجھے۔ کیونکہ اگر انسان ہر شک پر عمل کرنا شروع کردے تو وسوسہ بڑھتا ہے اور عبادت  مشکل ہوجاتی ہیں۔

لہٰذا چھینٹیں لگ جانے کا صرف شک ہونا، یا صرف ایسا محسوس ہونا کہ کچھ لگا ہے، یقین میں شمار نہیں ہوگا۔

جب تک نجاست واضح طور پر معلوم نہ ہو، بدن، کپڑا اور دیگر اشیاء پاک شمار ہوں گی،اسی پر عمل کرنا لازم ہے۔

اسی طرح دوسرے بندے کے ہاتھ سے اگر   چھینٹیں آپ کو لگ جائیں  ،صرف اس گمان سے کہ وہ ابھی واش روم سے نکل کر آیاہے،اس سے  آپ کا جسم اور کپڑے نجس نہیں ہوں گے۔

حوالہ جات

في الأشباه والنظائر(2/2):

اليقين لايزول بالشكّ،و فيها قواعد:الأولى:الأصل إبقاء ما كان على ما كان.

وفي بدائع الصنائع(1/33):

والمراد من قوله أول ما شك أن الشك في مثله لم يصر عادة له؛ لا أنه لم يبتل به قط، وإن كان يعرض له ذلك كثيرا لم يلتفت إليه، لأن ذلك وسوسة، والسبيل في ‌الوسوسة قطعها؛ لأنه لو اشتغل بذلك لأدى إلى أن يتفرع لأداء الصلاة، وهذا لا يجوز.

وفي ردّ المحتار على الدّرّ المختار(1/811):

(قوله: لطمأنينة القلب) لأنه أمر بترك ما يريبه إلى ما لا يريبه، وينبغي أن يقيد هذا بغير ‌الموسوس،أما هو فيلزمه قطع مادة الوسواس عنه وعدم التفاته إلى التشكيك؛ لأنه فعل الشيطان وقد أمرنا بمعاداته ومخالفته. رحمتي.

و فی رد المحتار(1/151):

 :تحت قوله : و لو شك إلخ). في التتارخانية : من شكّ في إنائه أو في ثوبه أو بدنه أصابته نجاسة أو لا، فهو طاهر ما لم يستيقن.

احسان اللہ گل محمد

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

 15/11/7144ھ 

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

احسان ولد گل محمد

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب