| 89702 | جائز و ناجائزامور کا بیان | بچوں وغیرہ کے نام رکھنے سے متعلق مسائل |
سوال
میں کراچی پورٹ میں ایک کسٹم کلیئرنگ ایجنٹ کے طور پر کام کرتا ہوں۔بنیادی طور پر ہمارا کا م باہر ممالک سے آنے والے سامان (جو کہ گھریلو یا تجارتی بھی ہو سکتا ہے) کو پاکستان کسٹم اور دیگر ٹیکس لگانے والے اداروں (ایف۔ بی۔ آر) سے کلیئر کروانا ہوتا ہے۔ ہم اس سامان کے مالک نہیں ہوتے صرف کسی مسافر (جو کہ کوئی پاکستانی یا غیر ملکی ہو سکتا ہے) کے سامان کو کسٹم حکام سے کلیئر کروا کے دیتے ہیں۔ جس کی اجرت ہم سامان کے حساب سے طے کر لیتے ہیں۔ پورٹ پر کسٹم حکام سامان کو (خواہ وہ کنٹینرز میں بند ہو یا کھلا ہو) کھول کر چیک (Exam) کرتے ہیں اور اس کے حساب سے ایک رپورٹ اگلے مرحلے کے لیے بھیجی جاتی ہے۔ اس کے بعد اسیسمنٹ ڈیپارٹمنٹ بھیجی گئی رپورٹ کے مطابق ( جس میں رپورٹ اور سامان کی تصاویر بھی شامل ہوتی ہیں) کسٹم ڈیوٹی/ ٹیکس لگاتے ہیں ۔ یہ ٹیکس ہر سامان پر الگ تناسب سے پاکستان کسٹم قانون کے مطابق لگائے جاتے ہیں ۔ یہ اس کام کا ایک خاکہ ہے اب اس میں کچھ چیزوں کے سوالات کے جوابات درکار ہونگے ۔ اگر کنٹینرز میں موجود پورے سامان پر ڈیوٹی ٹیکس لگائے جائیں تو ایک اندازے کے مطابق ایک کنٹینر کے ڈیوٹی ٹیکس تقریباً تیس سے چالیس لاکھ روپے تک بن سکتے ہیں جو کہ ایک عام مسافر کے سامان کے لیے ہے ۔ حکومت اور قانون کے حساب سے اگر کوئی مسافر بارہ سو ڈالر1200$ کی مالیت کا سامان لاتا ہے جو کہ پاکستانی تقریباً تین لاکھ چالیس ہزار روپے 340,000 بنتے ہیں ،تو اس پر کوئی بھی ٹیکس نہیں ہے۔ مذکورہ مالیت سے زائد کے سامان پر کسٹم قانون کے مطابق ڈیوٹی ٹیکسز لگائے جائیں گے۔ اتنی زیادہ ڈیوٹی ٹیکس سے بچنے کے لیے پورٹ پر رشوت کا لین دین ایک مجبوری بن چکی ہے جو کہ ہزاروں سے لاکھوں تک ہوتی ہے۔ ہر چھوٹے سے لے کر بڑے افسر کو رشوت دینی پڑتی ہے۔ یعنی ہر مرحلے میں رشوت دینا لازمی ہے ورنہ ہمارے سامان کو یا تو کلیئر کرنے سے روکا جائیگا (جس کی وجہ سے مختلف قسم کے قانونی مسئلے مسائل بنائے جائیں گے )یا پھر سامان کو کلئیر کرنے میں وقت اتنا لگا دیا جائے گا کہ جس کے اخراجات پورے کرنا محال ہوتا ہے۔ یہ رشوت دینا لازم ہوتا ہے ، اور اس رشوت کے بدلے میں متعلقہ افسربھلے وہ کاغذات کی توثیق کرنے والا ہو، جانچ (Exam) کرنے والا ہو، ڈیوٹی لگانے والا ہو، کلئیرنس دینے والا ہو اپنے کام کے حساب سے ایجنٹ کو فائدہ دیتا ہے۔ اس وقت مسافر کے سامان کا کنٹینرز تقریباً دو لاکھ سے چھ لاکھ روپے تک ڈیوٹی میں کلئیر ہو رہا ہے جو کہ حکومت کو ادا کر کے کنٹینر کلئیر کیے جاتے ہیں۔ یہ سب اسی وجہ سے ممکن ہے کہ ہر مرحلے میں کسٹم حکام یا دیگر لوگ اس رشوت کے عوض رپورٹ کم بناتے ہیں یا چیزوں پر ٹیکس کم لگاتے ہیں ۔ کلئیرنس کے اس پورے مرحلے میں کلیئرنگ ایجنٹس سامان کی جانچ کے وقت اپنی مرضی کی لیبر بھیج کر زیادہ ڈیوٹی ٹیکس والا سامان چھپا دیتے ہیں تاکہ جانچ کرنے والے افسر کو نظر ہی نا آئے ،جس کے عوض کسٹم ایجنٹس ، مزدوروں کو متعلقہ سامان کے حساب سے مزدوری کے علاوہ صرف سامان چھپانے کے الگ سے پیسے دیتے ہیں ۔ کسی بھی غیر قانونی یا ممنوع چیز کو کلیئر کروانے کے لیے بھی الگ سے رشوت دی جاتی ہے (مثال کے طور پر کھانے پینے کی تمام اشیاء ممنوع ہیں بھلے وہ عجوہ کھجور ہی کیوں نہ ہو) ۔ میں نے ایک عزیز سے بات کی ،جو کہ خود یہیں کام کرتے ہیں اور دیندار بھی ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ اسلام میں درآمدات و برآمدات پر ٹیکس لگانے کا کوئی نظام نہیں ہے۔ لہذا یہ ایک غیر شرعی نظام ہے اور اس میں کم سے کم ٹیکس لگوانے کے لیے اگر رشوت دینی پڑے تو کوئی مضائقہ نہیں ۔ اب کچھ سوالات ہیں جن کے جوابات درکار ہیں 1۔ کیا درآمدات و برآمدات پر ٹیکس لگانا غیر شرعی عمل ہے ؟ 2۔ اس کام میں رشوت دینا کیسا ہے؟ جو کہ کام کرنے کے لیے لازم ہے. 3۔ کیا یہ کلیئرنگ ایجنٹ کا کام کرنا ٹھیک ہے یا نہیں ؟ 4۔ لیبر کے ذریعے سے پیسے دے کر ٹیکس سے بچنے کے لیے سامان چھپانا کیسا ہے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
عہدِ نبوی ﷺ اور خلافتِ راشدہ میں بیت المال میں موجود مال زکوٰۃ، خراج، عشر اور دیگر شرعی ذرائع سے ریاستی اخراجات اور قومی ضروریات پوری کی جاتی تھیں،اضافی ٹیکس کی ضرورت کم پڑتی تھی ۔موجودہ دور میں ذمہ داریاں اور حکومت کے اخراجات بھی بڑے ہیں،نیز سابقہ ذرائع میں سے بعض عملاً ناپید ہوگئے ہیں،لہذا فقہاءِ اسلام کے نے کچھ شرائط کے ساتھ ٹیکس لگانے کی اجازت دی ہے،مثلا:ٹیکس عادلانہ ہو،ظلم نہ ہو۔ضرورت ہو بلاضرورت نہ لگائیں۔عوامی مفاد میں ہو ذاتی مفاد پیش نظر نہ ہو۔
یاد رہے کہ اگر حکومت کی جانب سے شرائط کا اہتمام نہ بھی کیا جائے تو بھی ٹیکس ادا کرنا ضروری ہوگا۔
حدیث میں ہے کہ جناب نبی کریم ﷺکے ہاں دیہات کے لوگ آئے اور کہنے لگے کہ زکاۃ وصول کنندہ لوگ ہمارے ہاں آتے ہیں اور ہم پر ظلم کرتے ہیں،نبی کریم ﷺنے فرمایا کہ زکاۃ لینے والوں کو مطمئن کرکے بھیجو ۔ مطلب یہ ہے کہ ان کی جانب سے ظلم کی صورت میں بھی واجب الادا ء رقم ضرور ادا کریں،اسے کم کرنے کے لیے حیلہ سازی نہ کریں۔
اب نمبر وار سوالات کے جوابات ملاحظہ ہوں۔
1۔ ریاست کے لیے اجتماعی نظم، اور ضروریاتِ عامہ کی خاطر عوام پر ان کی مصلحت کے لیے قابل برداشت ٹیکس عائد کرنا جائز ہے،اور عوام پر اس کی ادائیگی لازم ہے، اس سے بچنے کے لیے غلط بیانی کرنا اور رشوت دینا مزید گناہ بر گناہ ہے۔
2۔ ٹیکس کی ادائیگی لازم ہے، رشوت دے کر ٹیکس سے جان چھڑانا شرعا جائز نہیں ہے۔ہاں اگر ٹیکس کی ادائیگی کے بعد بھی آپ کو آپ کا حق لینے میں دشواری ہے تو اس وقت اپنا حق لینے کے لیے رشوت دینے کی گنجائش ہوگی،البتہ لینے والا بہر حال گناہ گار ہوگا ۔
3۔ کلیئرنگ ایجنٹ اگر شرعی اور قانونی تقاضوں کے مطابق سارے کام کرے اور اس کی اجرت پہلے سے طے شدہ ہو تو اس کا پیشہ شرعاً جائز ہے، البتہ اگر وہ رشوت، جعلی دستاویزات یا ممنوع اشیاء کی کلیئرنس میں شریک ہو تو اس صورت میں اس کا یہ عمل شرعاً ناجائز ہوگا۔
4۔ ٹیکس سے بچنے کےلیے سامان کو چھپایاجائے تو یہ ناجائز ہے۔
حوالہ جات
1۔و في الفتاوى الهندية(191/1)دارالفكر بيروت:
والثالث:الخراج والجزية، وما صولح عليه بنو نجران من الحلل وبنو تغلب من الصدقة المضاعفة، وما أخذه العاشر من المستأمنين وتجار أهل الذمة كذا في السراج الوهاج. وتصرف تلك إلى عطايا المقاتلة وسد الثغور وبناء الحصون ثمة، وإلى مراصد الطريق في دار الإسلام حتى يقع الأمن عن قطع اللصوص الطرق، وإلى إصلاح القناطر والجسور، كذا في محيط السرخسي. وإلى كري الأنهار العظام التي لا ملك لأحد فيها كالجيحون والفرات ودجلة كذا في شرح الطحاوي. وإلى بناء الرباطات والمساجد وسد البثق وتحصين ما يخاف عليه البثق، وإلى أرزاق الولاة، وأعوانهم والقضاة والمفتين والمحتسبين كذا في محيط السرخسي والمعلمين والمتعلمين كذا في السراج الوهاج. ويصرف إلى كل من تقلد شيئا من أمور المسلمين، وإلى ما فيه صلاح المؤمنين كذا في محيط السرخسي.
وفي مجلة الأحكام العدلية(1/22):
التكاليف الأميرية إن كانت لأجل محافظةالنفوس تقسم على عدد الرؤوس ولا يدخل في دفتر التوزيع النساء و لاالصبيان.وإن كانت لمحافظة الأملاك فتقسم على مقدار الملك؛ لأن الغرم بالغنم.
وفی شرح التنوير(279/3):
دفع النائبة والظلم عن نفسه أولى،إلا إذا تحمل حصته باقيهم.
و تحته في الشامية:قوله:(دفع النائبة و الظلم عن نفسه أولى إلخ)النائبة:ماينوبه من جهة السلطان من حق أو باطل أو غيره كما في القنية عن البزدوي.والمراد دفع ما كانت بغير حق،ولذا عطف الظلم تفسيراً،و فيها عن عن شمس الأئمة:توجه على جماعة جباية بغير حق،فلبعضهم دفعها عن نفسه إذا لم يحمل حصّته على الباقين،و إلّا فالأولى أن لايدفعها عن نفسه،،،إلى أن قال:و تصح الكفالة بالنائبة،سواء كانت بحقّ ككري النهر المشترك للعامّة،و أجرة الحارس،و ما وظّف للإمام ليجهّز به الجيوش و فداء الأسارى بأن احتاج إلى ذلك و لم يكن في بيت المال شيئ فوظف على الناس ذلك،،،أو كانت بغير حقّ كجبايات زماننا،فإنها في المطالبة كالديون بل فوقها،،،إلى أن قال:قال أبوجعفر البلخي:مايضربه السلطان على الرعية مصلحة لهم يصير دينًا واجبًا و حقّاً مستحقّاً كالخراج،وقال مشايخنا:و كلّ ما يضربه الإمام عليهم لمصلحة لهم فالجواب هكذا،حتى أجرة الحرّاسين لحفظ الطّريق و اللصوص و نصب الدروب و أبواب السكك،،،إلى أن قال:فعلى هذا مايؤخذ في خوارزم من العامة لإصلاح مسناة الجيحون أو الربض و نحوه من مصالح العامة دين واجب لايجوز الامتناع عنه،و ليس بظلم،ولكن يعلم هذا الجواب للعمل به، وكفّ اللسان عن السلطان و سعاته فيه،لا للتشهير حتى لايتجاسروا في الزيادة على القدر المستحقّ.قلت(ابن عابدين)وينبغي تقييد ذلك بما إذا لم يوجد في بيت المال ما يكفي لذلك.
2۔ وفي حاشية ابن عابدين(423/6):
دفع المال للسلطان الجائر لدفع الظلم عن نفسه وماله ولاستخراج حق له ليس برشوة ،يعني في حق الدافع اهـ.
و في حاشية ابن عابدين(362/5):
وفي الفتح: ثم الرشوة أربعة أقسام: منها ما هو حرام على الآخذ والمعطي وهو الرشوة على تقليد القضاء والإمارة.
الثاني: ارتشاء القاضي ليحكم وهو كذلك(یعنی الحرمۃ) ولو القضاء بحق؛ لأنه واجب عليه.
الثالث: أخذ المال ليسوي أمره عند السلطان دفعا للضرر أو جلبا للنفع وهو حرام على الآخذ فقط
الرابع: ما يدفع لدفع الخوف من المدفوع إليه على نفسه أو ماله ،حلال للدافع حرام على الآخذ؛ لأن دفع الضرر عن المسلم واجب ولا يجوز أخذ المال ليفعل الواجب، اهـ ما في الفتح ملخصا.
3۔و في مجلة الأحكام العدلية:(81/1):
القسم الثاني :هو الأجير المشترك الذي ليس بمقيد بشرط أن لايعمل لغيره .
احسان اللہ گل محمد
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
13/7/7144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | احسان ولد گل محمد | مفتیان | مفتی محمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


