03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
لفظ آزاد اورچھوڑتاہوں سے طلاق کاحکم
91042طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

بیوی کا بیان

میرے شوہر نے مجھے متعدد بار غصے کی حالت میں، کئی کئی بار الگ الگ جھگڑوں کے دوران کچھ جملے کہے ہیں۔ کیا ایسا کہنے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے یا جو بھی صورت ہے، ہماری رہنمائی فرما دیں۔

1۔ جا، میں نے تجھے آزاد کیا، میری طرف سے تو آزاد ہے۔ اور 2۔ جا، میری طرف سے تو آزاد ہے، کہیں بھی جا، کسی کے ساتھ بھی منہ کالا کر، دفع ہو جا۔ میں تجھے آزاد کرتا ہوں، اب میرے قریب نہیں آنا۔ 3۔ چل تجھے چھوڑتا ہوں میں۔ اب میرے قریب نہیں آنا۔

نارمل حالت میں بھی مجھے کئی بار کہہ چکے ہیں کہ: 1۔ میں بہت مجبور ہو گیا ہوں اس لیے کہہ رہا ہوں تم شادی کر لو۔ 2۔ تم اب کسی اور سے شادی کر لو۔ 3۔ میں مجبور ہوں، تم شادی کر لو۔ تمہیں سہارے کی ضرورت پڑے گی۔ 4۔ میرا نام لے کر بھی کہا، "تم شادی کر لو"، "تمہیں سہارے کی ضرورت پڑے گی"۔

شوہر کا بیان

1۔ "جا تجھے آزاد کیا" اور "میں نے تجھے آزاد کیا" سے میری مراد یہ تھی کہ شادی سے پہلے میں نے اپنی بیوی کو آزادانہ ماحول میں دیکھا تھا، تو وہی اپنے ذہن میں لا کر کہا تھا کہ تم تو آزاد ہو۔ تو بول دیا "جا تو آزاد ہے" اور یہ بھی کہا تھا "میں نے تجھے آزاد کیا"۔ نکاح سے آزاد کرنے کے خیال سے ایک بار بھی ہرگز نہیں کہا۔ 2۔ (چل تجھے چھوڑتا ہوں) یہ الفاظ میں نے خالی ذہن سے کہے تھے۔ دماغ میں کچھ بھی نہیں تھا، نہ نکاح سے نکالنے کا خیال تھا۔

نوٹ: کبھی میں نے اپنی زوجہ کو طلاق دینے کی نیت سے کوئی الفاظ نہیں کہے، بلکہ غصے کی شدید حالت اور غم و غصہ میں بھی نکاح سے آزاد کرنے کا خیال میرے دور دور تک ذہن میں نہیں آتا تھا۔

شوہرکی زبانی وضاحت

شوہرسے فون پر بات ہوئی تو انہوں نے کہاکہ پہلی مجلس میں پہلے آزادکا لفظ بولا(یعنی "جا، میں نے تجھے آزاد کیا"کہا) اورپھراسی مجلس میں چھوڑدیا کالفظ بھی ایک مرتبہ استعمال کیا(یعنی یہ کہاکہ"چل تجھے چھوڑتا ہوں میں")اورپھراس واقعہ کے 20دن بعدچھوڑدیا کا لفظ اسی طرح دوبارہ استعمال کیا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شوہرکی زبانی وضاحت کی رو سےمسئولہ صورت میں تین طلاق واقع ہوکرحرمتِ مغلظہ ثابت ہوگئی ہے،لہذا اب نہ رجوع ہوسکتاہے اورنہ نیانکاح۔

تفصیل اس کی یہ ہے کہ شوہر نے سب سے پہلے غصے اور جھگڑے کی حالت میں بیوی سے کہا: "تو میری طرف سے آزاد ہے"۔ اسی وقت اس سے ایک طلاقِ بائن واقع ہو گئی، اس لیے کہ یہ الفاظ کنائی طلاق کے ہیں اور غصے کی حالت میں کہے گئے ہیں، جو کہ طلاق مراد لینے کا قرینہ (دلیل) ہے۔ چنانچہ اس سے ایک طلاقِ بائن واقع ہو جائے گی، اگرچہ بعد میں شوہر یہ دعویٰ ہی کیوں نہ کرے کہ اس کی نیت طلاق کی نہیں تھی۔

اس کے بعد جب اسی مجلس میں شوہر نے کہا: "چل تجھے چھوڑتا ہوں میں"، تو اس سے دوسری طلاق واقع ہو گئی؛ کیونکہ بائن کی عدت میں صریح (واضح) لفظ سے طلاق واقع ہو جاتی ہے، جیسا کہ فقہِ حنفی کا اصول ہے: "الصَّرِيحُ يَلْحَقُ الْبَائِنَ" (کہ صریح طلاق بائن کو لاحق ہو جاتی ہے۔

پھر اس کے ۲۰ دن بعد جب شوہر نے دوبارہ کہا: "تجھے چھوڑتا ہوں"، تو چونکہ اتنی قلیل مدت میں تین حیض آنا ناممکن ہے، لہٰذا یہ عدت کے اندر صریح لفظ کا استعمال ہوا، جس سے تیسری طلاق بھی واقع ہو گئی۔ یوں طلاقوں کی تعداد (تین) پوری ہو گئی اور حرمتِ مغلظہ ثابت ہو گئی۔

اب رجوع یا تجدیدِ نکاح کی فی الفور کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ تاہم، اگر یہ خاتون (عدت کے بعد) کسی اور شخص سے (بغیر کسی شرط کے) نکاح کر لے اور ہمبستری کے بعد وہ دوسرا شوہر اپنی مرضی سے اسے طلاق دے دے یا فوت ہو جائے، تو یہ عورت اس دوسرے شوہر کی عدتِ طلاق/وفات گزار کر پہلے شوہر سے دوبارہ نکاح کر سکتی ہے اور اب یہ نکاح جائز ہوگا۔

واضح رہے کہ پہلے سے طلاق کی شرط طے کر کے حلالہ کرنا ناجائز اور باعثِ لعنت عمل ہے، اگرچہ (نکاح اور ہمبستری کی وجہ سے) بیوی اس صورت میں بھی پہلے شوہر کے لیے حلال ہو جائے گی۔

حوالہ جات

حاشية الشرنبلالي على درر الحكام شرح غرر الأحكام: (1/ 368)

(قوله: إما صالح للجواب فقط كاعتدي إلى اختاري) جعل منه في المواهب: سرحتك، فارقتك، أنت حرة، وهبتك لأهلك، الحقي بأهلك۔

درر الحكام شرح غرر الأحكام :(1/ 369)

(وفي) حال (الغضب يقع) الطلاق (بالصالح له) أي للجواب (فقط بلا نية) ؛ لأنه يصلح للطلاق الذي يدل عليه الغضب ولا يصلح للرد والشتم۔

الاختيار لتعليل المختار :(3/ 133)

وفي حالة الغضب يصدق إلا فيما يصلح جوابا لا غير، لأنه يصلح للطلاق الذي يدل عليه الغضب فيجعل طلاقا۔

الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار :(ص: 214)

 ونحو اعتدي ،واستبرئي رحمك،أنت واحدة، أنت حرة، اختاري، أمرك بيدك، سرحتك، فارقتك، لا يحتمل السب والرد…(وفي الغضب) توقف (الاولان) إن نوى وقع وإلا لا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) :(3/ 301)

(قوله توقف الأولان) أي ما يصلح ردا وجوابا وما يصلح سبا وجوابا ولا يتوقف ما يتعين للجواب۔

" حاشية رد المحتار" 3 /  329:

قال رها كردم أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا، وما ذاك إلا لانه غلب في عرف الناس استعماله في الطلاق، وقد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق من أي لغة كانت، لكن لما غلب استعمال حلال الله في البائن عند العرب والفرس وقع به البائن لولا ذلك لوقع به الرجعي۔۔۔۔۔۔۔۔وأما إذا تعورف استعماله في مجرد الطلاق لا بقيد كونه بائنا يتعين وقوع الرجعي به كما في فارسية سرحتك، ومثله ما قدمناه في أول باب الصريح من وقوع الرجعي بقوله: سن بوش أو بوش أو في لغة الترك مع أن معناه العربي أنت خلية، وهو كناية، لكنه غلب في لغة الترك استعماله في الطلاق۔

قال العلامة الحصكفي رحمه اللہ:

(الصريح يلحق الصريح و) يلحق (البائن) بشرط العدة (والبائن يلحق الصريحالصريح ما لا يحتاج إلى نية بائنا كان الواقع به أو رجعيا .(الدر المختار: 306/3)

وفی القران المجيد[البقرة: 230]

{ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ }

وفی احکام القرآن للشيخ ظفر احمد العثماني(رح):(۱/۵۰4)

﴿قوله تعالي: فان طلقها فلا تحل له حتي تنکح زوجا غيره﴾ اي انه اذا طلق الرجل امرأته طلقة ثالثة بعد ما ارسل عليها الطلاق مرتين فانها تحرم عليه حتي تنکح زوجا غيره اي حتي يطأها زوج اخر في نکاح صحيح.

فی سنن ابن ماجة (ج 2 / ص 152)باب من طلق ثلاثا في مجلس واحد 2024

حدثنا محمد بن رمح . أنبأنا الليث بن سعد ، عن إسحاق بن أبى فروة ،عن أبى الزناد ، عن عامر الشعبى  قال : قلت لفاطمة بنت قيس :حدثينى عن طلاقك . قالت : طلقني زوجي ثلاثا ، وهو خارج إلى اليمن فأجاز ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم .

سنن البيهقي الكبرى - (ج 7 / ص 339)

أخبرنا أبو سعد أحمد بن محمد الماليني أنا أبو أحمد عبد الله بن عدي الحافظ نا محمد بن عبد الوهاب بن هشام نا علي بن سلمة اللبقي ثنا أبو أسامة عن الأعمش قال كان بالكوفة شيخ يقول سمعت علي بن أبي طالب رضي الله عنه يقول إذا طلق الرجل امرأته ثلاثا في مجلس واحد فإنه يرد إلى واحدة والناس عنقا وآحادا إذ ذاك يأتونه ويسمعون منه قال فأتيته فقرعت عليه الباب فخرج إلي شيخ فقلت له كيف سمعت علي بن أبي طالب رضي الله عنه يقول فيمن طلق امرأته ثلاثا في مجلس واحد قال سمعت علي بن أبي طالب رضي الله عنه يقول إذا طلق رجل امرأته ثلاثا في مجلس واحد فإنه يرد إلى واحدة قال فقلت له أين سمعت هذا من علي رضي الله عنه قال أخرج إليك كتابا فأخرج فإذا فيه بسم الله الرحمن الرحيم هذا ما سمعت علي بن أبي طالب رضي الله عنه يقول إذا طلق الرجل امرأته ثلاثا في مجلس واحد فقد بانت منه ولا تحل له حتى تنكح زوجا غيره قال قلت ويحك هذا غير الذي تقول قال الصحيح هو هذا ولكن هؤلاء أرادوني على ذلك.

رد المحتار - (ج 10 / ص )

وقد ثبت النقل عن أكثرهم صريحا بإيقاع الثلاث ولم يظهر لهم مخالف - { فماذا بعد الحق إلا الضلال}  وعن هذا قلنا لو حكم حاكم بأنها واحدة لم ينفذ حكمه لأنه لا يسوغ الاجتهاد فيه فهو خلاف لا اختلاف.

الفتاوى الهندية - (ج 10 / ص )

وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير ويشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل وهو التقاء الختانين هكذا في العيني شرح الكنز .أما الإنزال فليس بشرط للإحلال.

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

21/1/1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب