021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مسجد میں تجارت کا حکم
60131/56-4خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

ہماری مسجد کے امام صاحب شہد بیچتے ہیں ۔اکثر دیکھا گیا ہے کہ وہ مسجد کی حدود ہی میں معاملہ کر رہے ہوتے ہیں اور شہد بھی ساتھ ہوتا ہے۔میں ذاتی طور پر غیر عالم ہوں مگر شیخ سے تعلق ہے۔میں نے خانقاہ میں یہ مسئلہ سنا تھا کہ مسجد میں غیر معتکف کے لیے خرید و فروخت کرنا نا جائز ہے۔آپ سے مسئلہ پوچھنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر واقعی ناجائز ہے تو یہ فتویٰ امام صاحب تک کسی مناسب طریقے سے پہنچادیا جائے،از راہ کرم رہنمائی فرمائیں۔

o

غیر معتکف کے لیے مسجد کی حدود میں تجارت کرنا مکروہ تحریمی ہے۔آپ کی مسجد کے امام صاحب کے لیے بھی یہی حکم ہوگا۔(کسی بھی مناسب طریقے سے یہ حکم انہیں بتا یا جائے یا فتوی دکھادیا جائے جس سے ان تک بات بھی پہنچ جائے اور ان کی بے اکرامی بھی نہ ہو)۔

حوالہ جات

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (1/ 351) (وكره إحضار المبيع والصمت والتكلم إلا بخير) أما إحضار المبيع وهي السلع للبيع فلأن المسجد محرز عن حقوق العباد وفيه شغله بها وجعله كالدكان وقوله وكره إحضار المبيع يدل على أن له أن يبيع ويشتري ما بدا له من التجارات من غير إحضار السلعة وذكر في الذخيرة أن المراد به ما لا بد له منه كالطعام ونحوه وأما إذا أراد أن يتخذ ذلك متجرا يكره له ذلك وهذا صحيح لأنه منقطع إلى الله تعالى فلا ينبغي له أن يشتغل فيه بأمور الدنيا ولهذا تكره الخياطة والخرز فيه ولغير المعتكف يكره البيع مطلقا لما روي أنه - عليه الصلاة والسلام - «نهى عن البيع والشراء في المسجد» رواه الترمذي وعنه - عليه الصلاة والسلام - أنه قال «إذا رأيتم من يبيع أو يبتاع في المسجد فقولوا له لا أربح الله تجارتك» الحديث أخرجه النسائي وقال - عليه الصلاة والسلام - «من سمع رجلا ينشد ضالة في المسجد فليقل لا ردها الله عليك». الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 449) (وكره) أي تحريما لأنها محل إطلاقهم بحر (إحضار مبيع فيه) كما كره فيه مبايعة غير المعتكف مطلقا للنھی.
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔