021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
میک اپ کے لئے بیوٹی پالرجانےکاحکم
..جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

دلہن کو میک اپ کیلئے بیوٹی پالر جانا کیسا ہے جبکہ دولہا کی طرف سے اس کا کچھ تقاضابھی نہ ہو ؟

o

آجکل بیوٹی پارلر کے نام سے جو مراکز بنے ہوئے ہیں ان میں عموما بے پردہ فاسق وفاجر آزاد خیال عورتیں بلکہ بعض جگہ غیر مسلم خواتیں ان مراکز کو چلاتی ہیں ،ان کے سامنے کسی دیندار خاتون کیلئے اپنے جسم کوکھولنا جائز نہیں ہے ۔ بعض جگہ تو یہ کام کرنے والے مرد ہوتے ہیں ،کسی خاتون کیلئے اجنبی مرد کے سامنے بے پردہ ہوکر جانا حرام ہے، اس لئے ایسے سنٹرز میں جاکر میک اپ کرواناحرام ہوگا۔ نیز بیوٹی پارلر سے زینت حاصل کرنے کے بعد اکثر اوقات نمازیں ادا کرنا دشوار ہوتاہے ، بعض ایسے رنگ وروغن استعمال ہوتے ہیں جو وضو ء مکمل ہونے مانع ہوتے ہیں ، بعض دفعہ خواتین وضو اس لئے نہیں کرتیں ہیں کہ اس سے زینت میں فرق آجاتا ہے ، ہاتھ چہرےوغیرہ پر لگاہوارنگ روغن اترجاتاہے، اس لئے بیوٹی پارلر سے نکلنے کے بعد وضونماز سے دور رہتی ہیں حالانکہ وہ پہلے نماز کی پابند ہوتی ہیں ،بعض دفعہ خواتین خلاف شرع بال اور بھوئیں بناتی ہیں ،اس میں مردوں سے مشابہت اختیار کرتی ہیں ، ان کے علاوہ اور بھی خرابیاں ہیں ۔ ان وجوہات کی بناءپر مروجہ بیوٹی پارلر میں جانا جائز نہیں ہے ۔ البتہ شرعی حدود وقیود میں رہتے ہوئے شوہر کوخوش کرنے کیلئے زیب وزینت اختیار کرناشرعا جائز بلکہ مستحسن ہے ، اس کے لئےشادی سے پہلے کسی دیندار خاتون کو گھر بلاکر مناسب میک اپ کروایاجاسکتا ہے ۔

حوالہ جات

الفتاوى الهندية (43/ 129) فقد ذكر الاستحسان فيما إذا كان الناظر إلى الرجل الأجنبي هو المرأة وفيما إذا كان الناظر إلى المرأة الأجنبية هو الرجل قال : فليجتنب بجهده ، وهو دليل الحرمة ، وهو الصحيح في الفصلين جميعا ، ولا تمس شيئا منه إذا كان أحدهما شابا في حد الشهوة وإن أمنا على أنفسهما الشهوة ، مشكاة المصابيح للتبريزي (2/ 206) وعن عمر عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : " لا يخلون رجل بامرأة إلا كان ثالثهما الشيطان " . رواه الترمذي مشكاة المصابيح للتبريزي (2/ 505) وعنه قال : قال النبي صلى الله عليه و سلم : " لعن الله المتشبهين من الرجال بالنساء والمتشبهات من النساء بالرجال " . رواه البخاري.
..

n

مجیب

احسان اللہ شائق صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔