021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اگرمشتری رقم اداء نہ کرے،ٹال مٹول کرتارہے توبائع کوفسخ بیع کااختارہے
53749.1خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

احسن آبادسوسائٹی سیکٹر۴ کے ایک مکان خریدنے کے بارے میں ،جس کی نوعیت یہ ہے کہ لوگوں میں یہ بات مشہورہے کہ سوسائٹی والوں نے سوسائٹی بنانے سے پہلے جن بروہی حضرات سے زمین خرید ہے ان کوپوری رقم اداء نہیں کی ،اس بناء پربروہیوں نے اپنی زمین سوسائٹی والوں کی رعایت کئے بغیربیچنی شروع کردی۔

اس کے بعد اس مکان کومالکوں نے خریدااوربنایا۔

چوتھے مالک ہم ہیں ،ہم نے بھی تقریباسات لاکھ 700000 میں خریدااورتقریبا100000 خرچہ کیاہے ۔

احسن آباد سوسائٹی اوربروہیوں کے آپس کے اختلافات کے بارے میں ہمیں علم نہیں کہ کون سچاہے اورکون جھوٹا؟

اب پہلاسوال یہ ہے کہ ایسامکان ہمارے لئے خریدناجائزتھایانہیں ؟

دوسراسوال یہ ہے کہ خریدنے کے بعدہمارے لئے اس میں رہائش اختیارکرنااورنمازیں پڑھناجائزہے یانہیں ؟

جبکہ ہمارے پاس کوئی متبادل جگہ بھی نہیں ہے ،ساری جمع پونجی لگادی ،مزیدکوئی ایسی صورت بھی نہیں کہ دوسرامکان خریدیں ۔                         

o

۱،۲۔آپ حسب استطاعت معلومات حاصل کرنے کی کوشش کریں ،معلومات کے نتیجے میں اگرظن غالب ہوجائے کہ احسن آبادسوسائٹی والوں نے واقعۃ پوری رقم اداء نہیں کی تھی ،بلکہ مسلسل ٹال مٹول سے کام لیتے رہے ،حتی کہ بروہی رقم وصول ہونے سے مایوس ہوگئے ،توبروہیوں کویہ اختیارحاصل تھاکہ وہ پوری رقم وصول نہ ہونے کی وجہ سے اس بیع کوفسخ کردیں ۔

اگرصورت حال یہی ہوتوبروہیوں کازمین آگے فروخت کرناصحیح تھا،اس لئے آپ کوکسی  اندیشے میں پڑنے کی ضرورت نہیں ،البتہ بروہیوں کویہ مسئلہ بتادیں کہ جورقم انہوں نے احسن آبادسوسائٹی والوں  سے لی تھی وہ انہیں واپس کرناآپ پرلازم ہے ۔

حوالہ جات

"العناية شرح الهداية " 10 / 316: ( ومن قال لآخر اشتريت مني هذه الجارية فأنكر الآخر إن أجمع البائع على ترك الخصومة وسعه أن يطأها ) لأن المشتري لما جحده كان فسخا من جهته ، إذ الفسخ يثبت به كما إذا تجاحدا فإذا عزم البائع على ترك الخصومة تم الفسخ ، وبمجرد العزم إن كان لا يثبت الفسخ فقد اقترن بالفعل وهو إمساك الجارية ونقلها وما يضاهيه ، ولأنه لما تعذر استيفاء الثمن من المشتري فات رضا البائع فيستبد بفسخه۔ قال ( ومن قال لآخر اشتريت مني هذه الجارية إلخ ) رجل قال لآخر اشتريت مني هذه الجارية فأنكره إن أجمع على ترك الخصومة : أي عزم بقلبه ، وقيل أن يشهد بلسانه على العزم بالقلب أن لا يخاصم معه وسعه : أي حل له أن يطأ الجارية ؛ لأن المشتري لما جحد العقد كان ذلك فسخا من جهته إذ الفسخ يثبت به ؛ لأن الجحود إنكار للعقد من الأصل ، والفسخ رفع له من الأصل فيتلاقيان بقاء فجاز أن يقوم أحدهما مقام الآخر كما لو تجاحدا فإنه يجعل فسخا لا محالة ، فإذا عزم البائع على ترك الخصومة تم الفسخ من الجانبين . فإن قيل : مجرد العزم قد لا يثبت به الحكم كعزم من له شرط الخيار على الفسخ فإن العقد لا ينفسخ بمجرده تنزل المصنف في الجواب فقال : وبمجرد العزم إن كان لا يثبت به الفسخ فقد اقترن العزم بالفعل وهو إمساك الجارية ونقلها من موضع الخصومة إلى بيته وما يضاهيه كالاستخدام ؛ لأن ذلك لا يحل بدون الفسخ فتحقق الانفساخ لوجود الفسخ منهما دلالة ، وبه يندفع ما قال زفر إنه لا يحل له وطؤها ؛ لأن البائع متى باعها من المشتري بقيت على ملكه ما لم يبعها أو يتقايلا ولم يوجد ذلك ؛ لأن التقايل موجود دلالة ( قوله : ولأنه ) دليل آخر فإن المشتري لما جحد العقد تعذر استيفاء الثمن منه ، ولما تعذر فات رضا البائع ، وفواته يوجب الفسخ لفوات ركن البيع فيستقل بفسخه فيجعل عزمه فسخا على ما مر . والفرق بين الدليلين أن الانفساخ كان في الأول مترتبا على الفسخ من الجانبين وجعل جحوده فسخا من جانبه ، والعزم على ترك الخصومة من جانب البائع ، وفي الثاني يترتب على الفسخ من جانب البائع باستبداده۔ "فتح القدیر" 5 509/ : وکذاقال المرغینانی :وقال ابن الھمام :فیستبد بفسخہ لفوات شرط البیع وھوالتراضی ۔
..

n

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / مفتی محمد صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔