021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
غیرحاضری،رخصت وغیرہ پرکٹوتی میں ہرمدرسہ کےقواعد وضوابط معتبرہوں گے
..جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں مفتیان کرام زیرتحریرمسئلہ کے بارے میں مسئلہ یہ ہے کہ زیدایک دینی مدرسہ کامہتمم ہے اوربکراس کے پاس تدریس کی خدمت سرانجام دے رہاہے ،بکرکی غیرحاضریوں کی وجہ سے زید نے تنگ آکربکرکومدرسہ سے فارغ کردیا،اسی طرح مہینے کے آخرمیں ان کے مابین یہ بحث چلتی تھی ،بکرپوری تنخواہ کامطالبہ کرتاتھا،جبکہ زید چھٹیوں کی تنخواہ کاٹنے پراس کومجبورکرتاتھا۔ واضح رہے کہ یہ چھٹیاں بعض اوقات عذرکی وجہ سے بھی ہوجاتی تھیں ۔ یہ تحریرشدہ مسئلہ فرضی نہیں ،بلکہ حقیقی ہے، اب آپ سے مندرجہ ذیل سوالات کے جوابات مطلوب ہیں : ۱۔ مدرس پورے سال میں کتنی چھٹیوں کااختیارشرعارکھتاہے ،سالانہ چھٹیوں سے ہٹ کر؟ ۲۔ یہ چھٹیاں اگرعذرکی وجہ سے ہوں تب بھی اس سے تنخواہ کاٹی جائے گی ؟ ۳۔ اگرعذرکی وجہ سے چھٹی کرسکتاہے توعذرسے کونساعذرمرادہے جس میں اس کوشرعامعذورشمارکیاجائے ؟ ۴۔ اسکول وکالج ومدارس دینیہ کے اساتذہ اس مسئلہ میں مساوی ہیں ،یاان کے لئے الگ الگ احکام ہیں ؟ ۵۔ اسی طرح اگراستاذاپنے نگران سے باقاعدہ تین چارایام کی رخصت لے لے ،پھراس کی تنخواہ سے کٹوتی کاکیاحکم ہے ؟نیزاطلاع دے کراپنے نگران کواوربغیراطلاع کے چھٹی کرے دونوں کاحکم یکساں ہے وظیفہ کی کٹوتی کے متعلق یاالگ الگ ہے ؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔التماس ہرجزکاحکم الگ الگ تحریرکرکے بالدلیل ممنون فرمائیں ۔

o

مدارس دینیہ اوراسکول وکالج میں مدرسین کی تنخواہ ،غیرحاضری پرکٹوتی اوررخصت وغیرہ سے متعلق اسی مدرسہ، کالج کاقانون ہی معتبرہوگا،بشرطیکہ وہ شریعت سے متضاد نہ ہو،لہذامدرس کے لئے اسی مدرسہ کاقانون واجب العمل ہوگا۔ اوربوقت تقرری مدرسہ کے ذمہ داران پرلازم ہےکہ اپنے مدرسہ کے قواعدوضوابط سے مدرسین کوآگاہ کریں تاکہ بعدمیں دونوں کےلئے کوئی مشکل پیدانہ ہو،کیونکہ یہ معاملہ اجیرخاص کامعاملہ ہے ،جس کے ساتھ تمام معاملات کی تفصیل طے کرنالازم ہے ۔ اگرکسی مدرسہ کاکوئی آئین مقررنہ ہوتو آس پاس مدارس کےعرف کااعتبارہوگا،جوعام مدارس کاعرف ہوگا،اسی کے مطابق فیصلہ کیاجائے گا۔ مسئولہ تمام صورتوں میں مدرسہ کے قواعدوضوابط کواوربصورت دیگر علاقائی مدارس کے عرف کو کودیکھاجائے گا ،اگرکٹوتی قواعدوضوابط کے مطابق ہوتوجائزہے ورنہ نہیں ۔

حوالہ جات

قال اللہ تعالی فی سورۃ المائدہ :آیت 01: یاایہاالذین آمنواوفوبالعقود۔ وقال اللہ تعالی فی سورۃ بنی اسرائیل: آیت نمبر 34 : واوفوبالعہدان العہدکان مسئولا۔ "صحیح البخاری" 1/303: قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: المسلمون عندشروطہم ۔
..

n

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔