021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
عوض لیکر حصہ میراث چھوڑ نا
55201.5میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

ہم سات بھائی اور ایک بہن ہے،بڑے تینوں بیٹوں میں سےچوتھے نمبر پر جو بیٹا تھا ، اس نے مکان خریدنے میں اپنے والد محترم کی کافی مدد کی تھی ان کا انتقال ہو گیا اور اس کے چار لڑکے اور ایک لڑکی اور ایک ان کی زوجہ رہ گئے یعنی ان کے 5بچے رہ گئے اب کچھ عرصہ کے بعد ہماری بھابھی یعنی بھائی کی زوجہ صاحبہ جو بیوہ تھی ان کا لہجہ اور زبان کا استعمال تھوڑا سخت ہونے لگا جو کراچی کے اس گھر میں رہائش پذیر ہے۔ان تین چھوٹے بھائیوں کی سمجھ سے باہر تھا کیونکہ بھابھی محترمہ کا مزاج اور لہجہ بہت سخت ہو گیا تھا ان حالات کومدنظر رکھتے ہوئے گاؤں والے بڑے بھائی نے ان کو گاؤں لے جانے کا فیصلہ کیا۔ جس پر بھابھی محترمہ بھی راضی تھی تو بھابھی کو گاؤں لے گئے کچھ عرصہ کے بعد کراچی میں اس گھر کے رہائش پذیر3نمبر والے بھائی نے یہ فیصلہ کیا اپنے بزرگوں اور بھائیوں کے ساتھ مل کر جو ہمارے بھائی مرحوم کا جو حصہ ہمارے ساتھ کراچی والے مکان میں ہے ان کے بچوں اور ان کی زوجہ کو دیا جائے چناچہ بھائی کی زوجہ اور ہماری بھابھی محترمہ کے ساتھ مشاورت میں یہ فیصلہ ہوا کہ ان کے لئے کراچی والے مکان کے حصے کے بدلے میں ایک گھر بنائیں گے اور بھابھی محترمہ نے ہمارے3نمبر والے بھائی صاحب سے گواہوں کی موجودگی میں ایک لاکھ روپے نقد وصول کئے اور گھر بنانے کے فیصلے پر راضی ہو گئیں 3نمبروالے بھائی نے گاؤں کی زمین میں سے اپنا حصہ جو بھابی محترمہ کو پسند تھا دے دیا اور جو ہمارے بھائی مرحوم کا گاؤں کی زمین میں جو حصہ تھا جو تھوڑا خراب تھااسے اپنے لئے قبول کیا اور اس میں سے بھی کچھ زمین بھابھی محترمہ کو گھر بنانے کے لئے دے دی اور بھائی مرحوم کے انتقال کے بعد اسی 3نمبر والے بھائی نے ان کے گھر کا اہل وعیال کاخرچہ زیادہ برداشت کیا اور کررہے ہیں اور اﷲ کے فضل سے بھابھی محترمہ کا گھر بھی بن گیا جس میں وہ اپنے بچوں کے ساتھ رہائش پذیر ہے اور بھائی صاحب اب بھی ان کی مدد کرتے ہیں اور ان کو خرچہ دیتے رہتے ہیں۔ 3نمبر والے بھائی کا مطالبہ ہے کہ بڑے بھائی مرحوم کا جو حصہ کراچی والے مکان میں تھا، اب وہ میری ملکیت ہے کیونکہ وہ میں نے خرید لیا ہے، کیا یہ ان کی ملکیت ہے اور ان کا یہ دعویٰ برحق ہے واقعے کی تفصیل پہلے عرض کر دی ہے ۔3تیسرے نمبر والے بھائی کا مرحوم بھائی کے حصے کا دعویٰ اگر حق ہے توٹھیک ہے بصورت دیگر اگر ان کا دعویٰ حق نہیں ہو تو ایسی صورت میں ان کا گواہوں کی موجودگی میں جو رقم بھابی صاحبہ کو دی اور گھر بنایا اور مزید مالی امداد جو انہوں نے کی بھائی مرحوم کے حصہ کی مدمیں تو اس کی واپسی کی کیا صورت احوال اور طریقہ کار ہو گا مہربانی فرما کر ذرا تفصیلاً وضاحت اورطریقہ کار مرحمت فرمائیں۔

o

میراث کی تقسیم   سے  قبل  ایک وارث  کا عوض لیکر  اپنا حصہ  چھوڑ دینا  درست ہے  ،لہذا تیسرے  نمبر کے بیٹے نے  جورقم  اپنی  بھابی کو مکان بنانے کے لئے  دی ہے  یہ ترکہ کا حصہ ہے چو  تھے بھائی کےحصے سے منہا ہوگی اور تیسرے بھائی کو دی جائے گی۔ اس کے علاوہ تیسرے نمبرکےبھائی نے اپنی بھابی  اور بھتیجوں  پر جو کچھ خرچہ  کیا اس کی واپسی  کا یاحصہ میراث  کے عوض  ہونے کا کوئی معاہدہ نہیں ہوا ہے  اس لئے وہ  تیسرے نمبر  کے بھائ کی  طرف سے  اپنی بھابی  اور بھتیجوں پر احسان شمار ہوگا ۔

حوالہ جات

رد المحتار (23/ 327) ( أخرجت الورثة أحدهم عن ) التركة وهي ( عرض أو ) هي ( عقار بمال ) أعطاه له ( أو ) أخرجوه ( عن ) تركة هي ( ذهب بفضة ) دفعوها له ( أو ) على العكس أو عن نقدين بهما ( صح ) في الكل صرفا للجنس بخلاف جنسه ( قل ) ما أعطوه ( أو كثر ) لكن بشرط التقابض فيما هو صرف ( وفي ) إخراجه عن ( نقدين ) وغيرها بأحد النقدين لا يصح ( إلا أن يكون ما أعطي له أكثر من حصته من ذلك الجنس ) تحرزا عن الربا ۔
..

n

مجیب

احسان اللہ شائق صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔