021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
فیس بک اور وٹس ایپ کے استعمال کا حکم
..جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

کیا فیس بک، وٹس ایپ وغیرہ استعمال کرنا جائز ہے؟ جبکہ غیر محرم عورتوں کی تصاویر بھی سامنے آجاتی ہیں۔

o

فیس بک اور وٹس ایپ درحقیقت رابطہ اور نشر واشاعت کے ذرائع ہیں،ان کے استعمال کے حکم میں یہ تفصیل ہے کہ اگر ان کو گناہ کے کام کے لیے استعمال کیا جائے یا فتنے کا اندیشہ ہو تو ایسی صورت میں ان کے استعمال سے اجتناب لازم ہے۔ اور اگر یہ باتیں لازم نہ آئیں تو دینی خدمت کے لئے یا اپنی ذاتی حاجت کے لئےاس کا استعمال جائز ہے۔ اگر ان ذرائع پر اپنا جائز کام کرتے ہوئے غیر محرم کی تصویر یا اور کوئی ناجائز بات غیر اختیاری طور پر سامنے آجائے تو فوراً اس سے نظر پھیر لینی چاہیے، اس کو دیکھنا جائز نہیں، غیر اختیاری طور پر اگر نظر پڑی ہو تو اس کی وجہ سے گناہ نہیں ہوگا۔ بغیر حاجت کے محض تفریح کےلئے فیس بک اور وٹس ایپ وغیرہ استعمال کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے؛ کیونکہ اس سے وقت کا ضیاع ہوتا ہے ۔

حوالہ جات

سنن أبي داود -ت- الأرنؤوط (3/ 481): عن ابن بريدة عن أبيه قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - لعلي: "يا علي، لا تتبع النظرة النظرة، فإن لك الأولى، وليست لك الآخرة." شرح السنة للبغوي (9/ 23): قال الإمام: وإذا اتفقت نظرة، فلا يعيدها قصدا، لما روي عن جرير بن عبد الله، قال: سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن نظر الفجاءة، قال: «اصرف بصرك». سنن الترمذي (4/ 558): عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم: " من حسن إسلام المرء تركه مالا يعنيه."
..

n

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔