021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
دکان کے سامنے کی فٹ پاتھ استعمال کرنے کا حکم
..جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

عرض یہ ہے کہ میرا مکان 858سیکٹر 5 احسن آباد ہے ، میں نےتمام تعمیرات بلڈنگ کنٹرول اٹھار ٹی سے نقشہ پاس کراکر کی ہیں ، میں کرایہ دار کے ساتھ جو معا ملہ کرایہ داری کا کرتاہوں اس میں یہ شرط ہوتی ہے کہ اپنا کاروبار دکان کی حدود جس کارقبہ اسٹامپ پر درج ہوتاہے کرےگا ، فٹ پاتھ اور روڈ کی جگہ پر سامان وغیرہ نہیں رکھے گا کیونکہ اور روڈ کی جگہ آمد ورفت کیلئے ہوتی ہے ، اب کچھ عرصے سے مرا کرایہ دار کے ساتھ اختلاف ہورہا ہے کہ وہ فٹ پاتھ اور روڈ کی جگہ کو سامان رکھ کر استعمال کرتاہے میں منع کرتا ہوں کہ یہ شرعی طور پر جائز نہیں میں ایسا نہیں کرنے دونگا ،اس کا خیال یہ ہے کہ میری بات نا جائز ہے ، اب سوال یہ ہے کہ گرین بلٹ کی جگہ ، فٹ پاتھ کی جگہ ، روڈ کی کچھ جگہ کو اپنی دکان میں شامل کرنا ، یاشامل کئے بغیر ان جگہوں پر سامان رکھ کر کاروبار کرنا ،میزکرسی رکھ کر گاہکوں کو دینا ،یہ جائز ہیں یانہیں اس سے حاصل ہونے والی آمدنی حلال ہوگی یا نہیں ؟گاہکوں کو ایسی جگہ سے خریداری جائز ہے یا نہیں ؟

o

راستہ عام لوگوں کی گذر گا ہ ہے اس لئے اس میں عارضی یا مستقل طورپر کوئی ایسا تصرف کرنا جس کی قانونا اجازت نہیں اور اس سے محلہ والوں کو یا راہ گیروں کو تکلیف پہنچے شرعا جائز نہیں ۔ لہذا صورت مسؤلہ میں اگر اس دکاندار کا دکان کے باہر سامان رکھنا قانوناقابل اعتراض ہو اورگذرنے والوں کے لئےتکلیف کا باعث ہو تو ان کا یہ عمل جائز نہیں ، ان پر لازم ہے توبہ استغفار کرے اور آیندہ کے لئے سامان باہر نہ رکھے اوردوسروں کو ایسے لوگوں سے مال کی خریداری میں احتیاط کرناچاہئے تاکہ گناہ کے کام میں تعاون نہ ہو،اوراگر اپنی دکان کے باہر سامان رکھنا قانوناقابل اعتراض نہ ہواور اس سے دوسروں کو تکلیف بھی نہ پہنچے تو ان کا یہ عمل جائز ہے،اس پر کوئی گناہ نہیں، کیونکہ دوسروں کو تکلیف پہنچا ئے بغیر قانون کے دائرہ میں رہتے ہوئےراستے کا استعمال ہر ایک کا حق ہے ۔

حوالہ جات

الهداية في شرح بداية المبتدي (4/ 473) قال: "ومن أخرج إلى الطريق الأعظم كنيفا أو ميزابا أو جرصنا أو بنى دكانا فلرجل من عرض الناس أن ينزعه" لأن كل واحد صاحب حق بالمرور بنفسه وبدوابه فكان له حق النقض، كما في الملك المشترك فإن لكل واحد حق النقض لو أحدث غيرهم فيه شيئا فكذا في الحق المشترك. قال: "ويسع للذي عمله أن ينتفع به ما لم يضر بالمسلمين" لأن له حق المرور ولا ضرر فيه فليلحق ما في معناه به، إذ المانع متعنت، فإذا أضر بالمسلمين كره له ذلك لقوله عليه الصلاة والسلام: "لا ضرر ولا ضرار في الإسلام".
..

n

مجیب

احسان اللہ شائق صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / فیصل احمد صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔