021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
زندگی مین تقسیم ترکہ کی ایک صورت
..میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

بعد سلام عرض یہ ہے کہ میرا ایک ذاتی مکان جو مین نے اپنی بیوی کے نا م کردیا ہے ،اب بیوی اس مکان کی مالک ہے اس مکان کی مالیت تقریبا 50لاکھ بنتی ہے ،میری بیوی کے مندرجہ ذیل وارثوں کا شرعی حصہ فقہ حنفی کے مطابق تقسیم فرمادیں ۔نیز یہ بھی بتادیں کہ میں اس کے وارثوں میں داخل ہوں یا نہیں میرے لئے اس میں کوئی شرعی حصہ ہوگا یانہیں ؟زندگی اور موت کا علم کسی کو بھی نہیں کہ پہلے میں جاتاہوں یا میری بیوی اس لئے دونوں کے حصوں کے بارے میں وضاحت کردیں ،میری بیوی کے کل چار اولاد ہے دوبیٹے اور دوبیٹیاں یہ سب شادی شدہ ہیں۔

o

پہلے یہ بات سمجھ لیں کہ میراث نام ہے اس مال کا جوآدمی مرتے وقت اپنی ملک میں چھوڑ کر جائے ،اس میں صرف ان ورثہ کا حق ہوتا ہے جو میت کے انتقال کے وقت زندہ ہوں ،لہذا زندگی میں اولا دمیراث کی حقدار نہیں ہے، دوسری بات یہ ہے کہ میاں بیوی میں سے جس کا بھی پہلے انتقال ہوجائےدوسرا اس کی میراث کاحقدار ہوگا ۔ ا س وضاحت کے بعد صورت مسؤلہ میں اگر آپ نے واقعة اپنا مکان بیوی کو باضابطہ طور پر قبضہ دے کر مالک بنادیا ہے جیسا کے سوال میں مذکور ہے، تو بیوی اس مکان کی مالک ہے ،اس کی زندگی میں آپ یا آپ کی اولا د کا اس مکان میں کوئی حق نہیں ہے، اب اگر آپ کا انتقال آپ کی بیوی سے پہلے ہوجائے تو اس صورت میں آ پ کو آپ کی بیوی کے ترکہ سے کچھ نہیں ملے گا اور اگر بیوی کا انتقال پہلے ہوجاتا ہے تو مذکورہ ورثہ کا حق میراث کا تناسب یہ ہو گا شوہر کا = ٪ 25اور دونوں لڑکوں میں سے ہر ایک کا حصہ = ٪ 25اور دونوں لڑکیوں میں سے ہر ایک کا حصہ =٪ 12.5

حوالہ جات

......
..

n

مجیب

احسان اللہ شائق صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔