021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مکان بیوی کو ہبہ کرنے کا مسئلہ
..میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

میں فالج کا اٹیک ہو ا صحت یابی کے بعد اپنا مکان بیوی کے نام کردیاتھا 2015 میں بیوی کا انتقال ہوا اس وقت ورثہ میں شوہر اور تین بھائی اور تین بہنیں زندہ تھیں پھر اس شخص نے اپنی سالی سے شادی کرلی اور 2017 میں اس شخص کا انتقال ہوا ورثہ میں بیوہ اور ایک بھائی حیات ہیں اولاد کوئی نہیں ایک شخص پر 2002 اور کوئی وارث بھی نہیں ۔ اب سوال یہ ہے کہ شوہر کی میراث کی تقسیم کس طرح ہوگی ۔

o

سوال میں ذکرکردہ تفصیل سے معلوم ہوا کہ شوہر نے اپنا مکان بیوی کے نام کیاتھا لیکن مالک بناکر قبضہ میں نہیں دیاتھا اس لئے شرعی ضابطےکے مطابق ھبہ تام نہیں ہوا وہ مکان بدستور شوہر کی ہوگی کہ حقوق متقدمہ علی الارث کے بعدکل مال کا آدھا حصہ شوہر کودیا جائے گا جو ان کے ترکہ میں شامل ہوگا بقیہ آدھا کا مساوی نوحصے کرکے مرحومہ ملک میں باقی ہے ۔اس کے علاوہ مرحومہ کی ملک میں سونا چاندی ،نقدی اور دیگر چھوٹا بڑا جو سامان تھا سب مرحومہ کا ترکہ ہےا سکی تقسیم اس طرح کے تینوں بھائیوں کو دودو حصے او ر تینوں بہنوں کو ایک ایک حصہ دیاجائے گا ۔ شوہر کےترکہ کا حکم یہ ہے کہ مرحوم نے بوقت انتقال منقولہ غیر منقولہ جائداد نقدی ،سونا چاندی ،سوال میں مذکور مکان اور گاڑی ، ان کے علاوہ دیگر چھوٹا بڑ ا جو بھی سامان اپنی ملک میں چھوڑا ہے سب مرحوم کا ترکہ ہے اس میں مرحومہ بیوی کی میراث سے ملنے والاحصہ بھی شامل کیاجائے گا تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ اس میں سے اولا مرحوم کے کفن دفن کا متوسط خرچہ نکالاجائے گا بشرطیکہ یہ خرچہ کسی نے تبرعا ادا نہ کیا ہو ، اس کے بعد مرحوم کے ذمہ کسی کا قرض ہو تو وہ چکایا جائے گا ،اس کے بعد اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو تہائی مال کی حد تک اس کو نافذکیاجائے گا ۔ اس بعدکل مال کو مساوی چار حصوں میں تقسیم کرکے ایک حصہ بیوہ کو دیاجائے گا اور تین حصے مرحوم کے بھائی کو دیاجائے گا ۔فیصد کے حساب سے 25 فیصد حصہ بیوہ کا ہے اور 75 فیصد مرحوم کے بھائی کا ہوگا۔

حوالہ جات

........
..

n

مجیب

احسان اللہ شائق صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / فیصل احمد صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔