021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شہر سے باہر مارکیٹ میں نمازجمعہ کاحکم
57307.1نماز کا بیانجمعہ و عیدین کے مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مندرجہ ذیل مسائل کے بارے میں ہمارے علاقہ میں چینیوٹ شہر سے پانچ چھ کلومیٹر کے فاصلے پر ایک جدید پرائیویٹ سبزی منڈی تعمیر کی گئی ہے ،جبکہ شہر میں پہلے سے ایک سبزی منڈی موجود ہے ، شہر کے زیادہ تر لوگ شہرکے اندر کی منڈی سے خریداری کرتے ہیں کیونکہ وہ منڈی بڑی ہے اور شہر کے اندر ہے ،کچھ لوگ نئی منڈی میں آتے ہیں باقی آس پاس کے گاؤں دیہات کے لوگ اسی منڈی سے خریداری کرتے ہیں ،اس منڈی میں ایک مسجد ہے جس میں جمعہ کی نماز بھی پڑھائی جاتی ہے ، حالانکہ اس منڈی سے بلکل متصل کوئی آبادی نہیں اختتام حدود شہر کا جوبورڈ لگاہوا ہے ،اس کے بعد زرعی زمین شروع ہوجاتی ہے درمیان میں سڑک ہے اسی سڑک پر آگے کچھ فاصلہ پر یہ منڈی ہے اس کے تین اطراف میں بھی کھیتیاں ہیں ،اب پوچھنا یہ ہے کہ اس منڈی میں جمعہ کا کیا حکم ہے ؟

o

اگر واقعی یہ جگہ شہر کی حدود سے باہر ہے،اور شہر کی حدود اس منڈی کے درمیان اتصال آبادی بھی نہیں ہے بلکہ زرعی زمینیں ہیں جیسا کہ سوال میں مذکور ہے ، اور مارکیٹ سے متصل بھی کوئی آبادی نہیں ہے توچونکہ اس جگہ صحت جمعہ کی شرائط نہیں پا ئی جارہی ہیں اس لئے اس مارکیٹ میں جمعہ جائز نہیں ۔شہر سے جوافراد تجارت یا دیگر ضروریا ت کے لئےجمعہ کے دن اس منڈی میں آتے ہیں ان کے ذمہ لاز م ہے کہ شہریا شہر کے حدود کے اندر کسی مسجد میں جمعہ پڑھیں اور اگر کوئی مسافر ہویعنی کسی اور شہر سے آیا ہو تو وہ مارکیٹ میں ظہر کی نماز پڑھے ۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 153) (قوله ورجح في البحر إلخ) هو ما استحسنه في البدائع وصحح في مواهب الرحمن قول أبي يوسف بوجوبها على من كان داخل حد الإقامة أي الذي من فارقه يصير مسافرا وإذا وصل إليه يصير مقيما، وعلله في شرحه المسمى بالبرهان بأن وجوبها مختص بأهل المصر والخارج عن هذا الحد ليس أهله. اهـ. قلت: وهو ظاهر المتون. وفي المعراج أنه أصح ما قيل. وفي الخانية المقيم في موضع من أطراف المصر إن كان بينه وبين عمران المصر فرجة من مزارع لا جمعة عليه وإن بلغه النداء وتقدير البعد بغلوة أو ميل ليس بشيء هكذا رواه أبو جعفر عن الإمامين وهو اختيار الحلواني وفي التتارخانية ثم ظاهر رواية أصحابنا لا تجب إلا على من يسكن المصر أو ما يتصل به فلا تجب على أهل السواد ولو قريبا وهذا أصح ما قيل فيه اهـ وبه جزم في التجنيس. قال في الإمداد: تنبيه قد علمت بنص الحديث والأثر والروايات عن أئمتنا الثلاثة واختيار المحققين من أهل الترجيح أنه لا عبرة ببلوغ النداء ولا بالغلوة والأميال فلا عليك من مخالفة غيره وإن صحح اهـ. أقول: وينبغي تقييد ما في الخانية والتتارخانية بما إذا لم يكن في فناء المصر لما مر أنها تصح إقامتها في الفناء ولو منفصلا بمزارع فإذا صحت في الفناء لأنه ملحق بالمصر يجب على من كان فيه أن يصليها لأنه من أهل المصر كما يعلم من تعليل البرهان والله ا المبسوط للسرخسي (2/ 121) قلنا فناء المصر موضع معد لحوائج أهل المصر بإقامتهم في المصر لا بإقامتهم في فنائها وإنما يتغير فرض المسافر بالإقامة فيعتبر فيه موضع الإقامة وهو ما بين الأبنية، وأما إقامة صلاة الجمعة والعيدين المبسوط للسرخسي (4/ 55) (قال) ولا جمعة بعرفة يعني إذا كان الناس يوم الجمعة بعرفات لا يصلون الجمعة بها؛ لأن المصر من شرائط الجمعة وعرفات ليست في حكم المصر إذ ليس لها أبنية إنما هي فضاء، وليست من فناء مكة؛ لأنها من الحل بخلاف منى عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - وأبي يوسف؛ لأنهما من فناء مكة، ولأنها بمنزلة المصر في هذه الأيام لما فيها من الأبنية والأسواق المركبة، وقد بينا في الصلاة
..

n

مجیب

احسان اللہ شائق صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / فیصل احمد صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔