021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کاروباری سرگرمیوں کی وجہ محلہ والوں کا پریشان ہونا
..جائز و ناجائزامور کا بیانخریدو فروخت اور کمائی کے متفرق مسائل

سوال

ایک صاحب کی کپڑا dye کرنے کی فیکٹری ہے۔ اس کے لیے ان کو بہت سارا پانی چاہیے ہوتا ہے۔ دن بھر میں 10 -8 Tanker پانی کے آتے ہیں۔ Tanker گلی میں بہت زیادہ جگہ گھیرتا ہےجس سےگلی والوں کو بہت پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہےتو اس صورت میں مجبوری کی حالت میں Factory Owner گنہگار ہوگا یا نہیں؟

o

صورت مسئولہ میں سائل سے رابطہ کرنے پر معلوم چلا کہ فیکٹری Industrial area میں واقع ہے اور وہاں گلیاں بھی معمول کے مطابق کشادہ ہیں۔ اب اس صورت میں اگر پانی کے Tanker گلی میں بہت زیادہ جگہ گھیرتے ہیں جس سے اس Industrial area میں واقع دوسرے فیکٹری کےافراد کو بہت پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔تو ایسی صورت میں Factory Owner گنہگار ہوگا لہذا اس پر لازم ہے کہ وہ پانی کے Tanker منگوانے میں ایسا طریقہ کار اختیار کرے جس سے آس پاس کے لوگوں کو پریشانی نہ ہو۔

حوالہ جات

"المادة (1214) ترفع الأشياء المضرة بالمارين ضررا فاحشا ولو كانت قديمة كالبروز الواطئ وكذا الغرفة الدانية. انظر المادة السابقة." (مجلة الأحكام العدلية (ص: 235)ط:نور محمد کارخانہ کتب) "المادة (1214) - (ترفع الأشياء المضرة بالمارين ضررا فاحشا ولو كانت قديمة كالبروز الواطئ وكذا الغرفة الدانية. انظر المادة السابقة) ترفع الأشياء المضرة بالمارين ضررا فاحشا والمانعة والمزاحمة للمرور والعبور ولو كانت قديمة كالبروز الواطئ وكذا الغرفة الدانية كما إنها ترفع لو كانت حادثة، انظر المادة السابقة لأن الطريق العام قديم أيضا والحق فيه لا يتغير بأي سبب من الأسباب (علي أفندي والهندية) . الخلاصة: أنه ترفع هذه الأشياء من الطريق العام بدون النظر إلى قدمها أو حدوثها لأنه لا يمكن أن يعتبر أن وضعها كان بحق، أما إذا كانت واقعة في طريق خاص فلا ترفع إذا كانت قديمة وإذا هدم صاحب الدار داره الواقعة على الطريق الخاص التي لها بروز واطئ وأراد إعادة بنائها على حالها الأصلي وإنشاء البروز فليس للجيران حق منعه (الهندية في الباب التاسع والعشرين من الكراهية) ." (درر الحكام في شرح مجلة الأحكام3/232 ط:دار الجیل)
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔