021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اجرت طے کیے بغیر معاملہ کرنے کا حکم
57804اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے متفرق احکام

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری بائیک پنچر ہوجاتی ہے تو میں اسے ٹھیک کرانے کے لیے مکینک کے پاس جاتا ہوں اور عام طور پر پنچر کے 50 روپے لیے جاتے ہیں، اسی طرح بائیک کی چین ٹھیک کرانے کے لیے میں مکینک کے پاس جاتا ہوں اور عام طور پر اس کے 20 روپے لیے جاتے ہیں۔ اب مکینک پنچر کے 50 روپے اور چین ٹھیک کرانے کے 20 روپے لیتا ہے اور یہ کام کرنے سے پہلے میں اجرت طے نہیں کرتا تو اس طرح اجرت طے کیے بغیر معاملہ درست ہے۔ o

o

صورت مسئولہ میں اجرت طے کیے بغیر آپ کا مکینک کے ساتھ معاملہ کرنا درست ہے۔ اس لیے کہ عرف میں بائیک کے پنچر اور چین لگانے کی اجرت متعین ہے اور جب عرف میں اجرت معلوم ہےتو اس کو الگ سے طے کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

حوالہ جات

"وفي الأشباه: استعان برجل في السوق ليبيع متاعه فطلب منه أجرا فالعبرة لعادتهم، (قوله فالعبرة لعادتهم) أي لعادة أهل السوق، فإن كانوا يعملون بأجر يجب أجر المثل وإلا فلا." (الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار)6/42 ط:دارالفکر بیروت) "(المادة 495) لو استأجر أحد أجيرا على أن يعمل يوما يعمل من طلوع الشمس إلى العصر أو إلى الغروب على وفق عرف البلدة في خصوص العمل. يعني أنه على الأجير إذا كان الأجير في البلدة يعمل عادة من طلوع الشمس إلى العصر أن يعمل من طلوع الشمس إلى العصر وإذا كان يعمل من طلوع الشمس إلى غروبها يعمل كذلك۔ أما إذا كان عرف البلدة مشتركا لزم أن يعتبر اليوم بمعناه اللغوي ويشتغل الأجير إلى الغروب…..ويتبع عرف البلدة فيما لو لم يعين العاقدان وقت ابتداء العمل مع انتهائه أما إذا اتفق العاقدان على العمل في اليوم الفلاني من الظهر إلى العصر لزم العمل بموجب ذلك ولا يتبع في ذلك عرف البلدة وعادتها" (درر الحكام في شرح مجلة الأحكام1/569 ط:دار الجیل) "العادة محكمة.يعني أن العادة عامة كانت أو خاصة تجعل حكما لإثبات حكم شرعي. هذه المادة هي نفس القاعدة المذكورة في كتاب الأشباه وكتاب المجامع، ومعنى محكمة أي هي المرجع عند النزاع؛ لأنها دليل يبنى عليه الحكم، وهي مأخوذة من الحديث الشريف القائل «ما رآه المسلمون حسنا فهو عند الله حسن»…. وقد أوضحت المجلة هذه المادة بقولها: إن العادة عامة أو خاصة تجعل حكما لإثبات (حكم شرعي) والعرف والعادة إنما تجعل حكما لإثبات الحكم الشرعي إذا لم يرد نص في ذلك الحكم المراد إثباته" (درر الحكام في شرح مجلة الأحكام1/44 ط:دار الجیل)
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

فیصل احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔