021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
لے پالک بیٹے کا حصہ میراث
59015میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

١۔ہمارے والد صاحب کا کچھ عرصہ قبل انتقال ہوگیا ورثہ میں ہم آٹھ بہنیں اور والدہ ہیں ۔اور ایک لےپالک بھائی ہے جس نے ہماری والدہ کا دودھ پیا ۔ ہمارے والد کی جائداد میں مکان اور چند دکانیں ہیں۔ ایک دکان لے پالک بھائی کے نام خریدی ہے وہ بھی غیر قانونی جگہ پر ہے ،اگر ہم بہنیں عدالت جائیں وہ بھی ہمیں مل جائے ۔ والد صاحب نے اپنی زندگی میں خواہش ظاہر کی تھی کہ جائداد کاکچھ حصہ فروخت کرکے بیٹیوں کودونگا بقیہ لے پالک بیٹے کو ایسا کچھ فیصلہ کرنے سے پہلے ہی والد صاحب کا انتقال ہوگیا ہے ۔ اب سوال یہ ہے کہ جائداد ورثہ میں کس طرح تقسیم ہوگی ۔ اگر ہم کچھ دکانیں تقسیم کے بغیر ہی والدہ کے لئے رکھ لیں ان کے انتقال بعد آپس میں تقسیم کریں اس کا کیا حکم ہے ؟

o

اگر مرحوم نے جائداد کا کوئی حصہ لے پالک بیٹے کو ھبہ کرکے مالک بناکر قانونی اور شرعی طور پر قبضہ میں دیدیا ہو تو اس جائداد کا وہ مالک ہے ۔ سوال میں مذکور دکان کا حکم یہ ہے کہ اگر لے پالک بیٹے کے نام خرید نے کے ساتھ اس کو ھبہ کرکے مالک بناکر اس کے قبضہ میں دیدیا تھا تو وہ اس دکان کامالک ہے ، اگر ھبہ نہیں کیا ، یامالک بنا کر قبضہ میں نہیں دیاتھا تو دکان بھی مرحوم کے ترکہ میں شامل ہوگی ۔ میراث میں لے پالک بیٹے کا کوئی حصہ نہیں ہے ۔ بالغ ورثہ اپنی خوشی سے اتفاق رائے سے کچھ دیدیں یہ بھی جائز ہے ۔ میراث کی تقسیم کا طریقہ یہ ہے اگر مرحوم کے کوئی اور مستحق رشتہ دار مثلا چچا ، بھائی یا ان کی اولاد وغیرہ نہیں ہے تومرحوم نے بوقت انتقال منقولہ غیر منقولہ جائداد سونا چاندی ،نقدی اور دیگر چھوٹا بڑا جو بھی سامان اپنی ملک میں چھوڑا ہے سب مرحوم کا ترکہ ہے ۔ سب سے پہلے اس میں سے مرحوم کے کفن دفن کا متوسط خرچہ نکالاجائے ۔ اگر یہ خرچہ کسی نے اپنی طرف سے ادا کردیا ہو تو ترکہ سے لینے کی ضرورت نہیں ۔ پھراگر مرحوم کے ذمہ واجب الادا قرض ہو تو اس کو چکایا جائے ۔ اس کےبعد اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو تہائی مال کی حد تک اس کو نافذ کیا جائے ۔ پھر ترکہ کو اس طرح تقسیم کریں بیوہ کاحصہ = % 5 . 12 آٹھوں لڑکیوں میں سے ہرایک کاحصہ = % 937 .

حوالہ جات

۔
..

n

مجیب

احسان اللہ شائق صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔