021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
حکومت کی طرف سے ہبہ کا حکم
..ہبہ اور صدقہ کے مسائلہبہ کےمتفرق مسائل

سوال

وزیرستان میں حکومت فوجی آپریشن کی وجہ سے گھروں کے نقصانات کے ازالہ کے لئے رقم دے رہی ہے۔ میرے خاوند کے بھتیجوں نے مجھ سے شناختی کارڈ لے کر میرے نام پر معاوضہ کے لیے سروے کرایا ہے۔ میرے نام والے سروے پر حکومت کی طرف سے میرے ہی نام چیک آئے گا۔ سوال یہ ہے کہ اس رقم پر مکمل طور پر میرا حق بنتا ہے یا میرے خاوند کے بھتیجوں کا بھی اس میں حق بنتا ہے؟ میرے خاوند کے بھتیجوں کے نام جو سروے ہوگا، اس میں میرا حق بنتا ہے یا نہیں؟

o

صورت مسئولہ میں حکومت کی طرف سے گھروں کے نقصانات کے ازالہ کے لیے ملنے والی رقم انعام و تبرع ہے اور یہ جس کے نام پر جاری ہو وہی اس کا حق دار ہوگا۔ آپ کے نام کے سروے پر حکومت کی طرف سے جاری ہونے والے چیک کے حق دار صرف آپ ہیں اور آپ کے خاوند کے بھتیجوں کے نام پر جاری ہونے والے چیک کے حق دار آپ کے خاوند کے بھتیجے ہیں۔

حوالہ جات

"(هي) لغة: التفضل على الغير ولو غير مال. وشرعا: (تمليك العين مجانا) أي بلا عوض لا أن عدم العوض شرط فيه…(وسببها إرادة الخير للواهب) دنيوي كعوض ومحبة وحسن ثناء، وأخروي…(و) تصح (بقبول) أي في حق الموهوب له أما في حق الواهب فتصح بالإيجاب وحده؛ لأنه متبرع…(و) تصح (بقبض بلا إذن في المجلس) فإنه هنا كالقبول فاختص بالمجلس (وبعده به) أي بعد المجلس بالإذن، وفي المحيط لو كان أمره بالقبض حين وهبه لا يتقيد بالمجلس ويجوز القبض بعده (والتمكن من القبض كالقبض فلو وهب لرجل ثيابا في صندوق مقفل ودفع إليه الصندوق لم يكن قبضا) لعدم تمكنه من القبض (وإن مفتوحا كان قبضا لتمكنه منه) فإنه كالتخلية في البيع" )الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار)5 /687ط:دار الفکر-بیروت)
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔