021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اگر والد صاحب کی زمین پر دو بیٹوں نے تعمیر کرائی تو اس گھر کی تقسیم کیسے ہوگی؟
..میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

ہم چار (4) بھائی اور تین (3) بہنیں ہیں۔ ہمارے والد صاحب کا انتقال ہوچکا ہے۔ ہمارے والد صاحب کی ایک زمین تھی، والد صاحب نے اپنی حیات میں مجھے اور میرے بڑے بھائی (سید سعود الحسن) سے کہا کہ آپ پیسے دیدیں تاکہ اس زمین پر رہایش کے لیے مکان تعمیر کرلیں اور سب مل جل کر رہیں، بعد میں جب تقسیم ہوگی تو پھر حساب کتاب کرلینا، ہم نے اس نیت سے والد صاحب کو تعمیر کے لیے پیسے دیئے کہ فی الحال ہم سب اس میں رہیں گے اور جب مکان بیچیں گے تو تعمیرات کی جتنی رقم بنے گی وہ ہم دونوں لے لیں گے، یعنی مکان کی تعمیر اپنے لیے کرائی تھی۔ اب وہ مکان ہم نے بہتر لاکھ پچیس ہزار (7,225,000) میں بیچ دیا، جس میں سے زمین کی قیمت ساٹھ لاکھ (6,000,000) روپے ہے، اور بقیہ رقم تعمیرات کی قیمت ہے۔ بیچنے سے پہلے مکان کی مینٹیننس کروائی، مینٹیننس کی مد میں ایک لاکھ چوالیس ہزار (144,000) روپے ہم نے مذکورہ مشترکہ رقم سے ادا کی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس مکان کو بیچ کر جو رقم حاصل ہوئی ہے اس کی تقسیم کس طرح ہوگی؟ اور جو ساٹھ لاکھ سے اوپر کی رقم بابت تعمیرات آئی ہے اس کا کیا حکم ہوگا؟ وضاحت:والد صاحب کے والدین، دادا، دادی اور نانی کا انتقال ان کی حیات ہی میں ہوگیا تھا۔ ہماری والدہ صاحبہ والد صاحب کے انتقال کے وقت حیات تھیں، بعد میں ان کا بھی انتقال ہوا۔ والدہ صاحبہ کے انتقال کے وقت ان کے والدین دادا، دادی اور نانی میں سے کوئی بھی زندہ نہیں تھا۔

o

سوالنامہ میں ذکر کردہ تفصیلات کی روشنی میں آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ: مذکورہ مکان کو بیچ کر جو رقم حاصل ہوئی ہے اس میں سے زمین کی قیمت (ساٹھ لاکھ روپے) آپ کے والد صاحب کا ترکہ ہے جس میں ان کے تمام ورثاء اپنے اپنے حصے کے بقدر شریک ہیں، اور بقیہ رقم جو تعمیرات کے عوض حاصل ہوئی ہے وہ آپ دونوں بھائیوں (جن کی رقم سے مذکورہ مکان تعمیر کیا گیا تھا) کی ملکیت ہے۔ مکان کی مرمت (maintenance) کا جو خرچہ آیا ہے وہ بھی آپ دونوں بھائیوں کو برداشت کرنا ہوگا، اس کو زمین کی قیمت (ساٹھ لاکھ) سے منہا نہیں کیا جائے گا۔ زمین کے عوض حاصل ہونے والی رقم (ترکہ) کی تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ اس کے کُل گیارہ (11) حصے بناکر بیٹوں میں سے ہر ایک کو دو، دو (2) حصے، اور بیٹیوں میں سے ہر ایک کو ایک، ایک (1) حصہ دیا جائے۔ تقسیم کا نقشہ ذیل میں ملاحظہ فرمائیں: مسئلہ:11 میـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ بیٹا بیٹا بیٹا بیٹا بیٹی بیٹی بیٹی 2 2 2 2 1 1 1 18.18% 18.18% 18.18% 18.18% 9.09% 9.09% 9.09% 1,090,909 1,090,909 1,090,909 1,090,909 545,454 545,454 545,454

حوالہ جات

جامع الفصولين (2/ 119) عمر دار امرأته فمات وتركها وابناً فلو عمرها بإذنها فالعمارة لها والنفقة دين عليها فتغرم حصة الابن. ولو عمرها لنفسه بلا إذنها فالعمارة ميراث عنه وتغرم قيمة نصيبه من العمارة وتصير كلها لها. ولو عمرها لها بلا إذنها قال النسفي: العمارة كلها لها ولا شيء عليها من النفقة فإنه متبرع. وعلى هذا التفصيل عمارة كرم امرأته وسائر أملاكها. الدر المختار (6/ 747) ( عمر دار زوجته بماله بإذنها فالعمارة لها والنفقة دين عليها ) لصحة أمرها ( ولو ) عمر ( لنفسه بلا إذنها فالعمارة له ) ويكون غاصباً للعرصة فيؤمر بالتفريغ بطلبها ذلك ( ولها بلا إذنها فالعمارة لها وهو متطوع ) في البناء فلا رجوع له ولو اختلفا في الإذن وعدمه ولا بينه فالقول لمنكره بيمينه وفي أن العمارة لها أو له فالقوله له لأنه هو المتملك كما أفاده شيخنا. حاشية ابن عابدين (6/ 747) قوله ( عمر دار زوجته الخ ) على هذا التفصيل عمارة كرمها وسائر أملاكها جامع الفصولين . وفيه عن العدة كل من بنى في دار غيره بأمره فالبناء لآمره ولو لنفسه بلا أمره فهو له وله رفعه إلا أن يضر بالبناء فيمنع ولو بنى لرب الأرض بلا أمره ينبغي أن يكون مبترعا كما مر إ هـ…. قوله ( والنفقة دين عليها ) لأنه غير متطوع في الإنفاق فيرجع عليها لصحة أمرها فصار كالمأمور بقضاء الدين ، زيلعي ، وظاهره وإن لم يشترط الرجوع، وفي المسألة اختلاف وتمامه في حاشية الرملي على جامع الفصولين قوله ( فالعمارة له ) هذا لو الآلة كلها له فلو بعضها له وبعضها لها فهي بينهما ط عن المقدسي قوله ( بلا إذنها ) فلو بإذنها تكون عارية ط. مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر (4/ 488) ومن عمر دار زوجته بماله أي بمال الزوج بإذنها أي بإذن الزوجة فالعمارة تكون لها أي للزوجة؛ لأن الملك لها وقد صح أمرها بذلك والنفقة التي صرفها الزوج على العمارة دين له أي للزوج عليها أي على الزوجة؛ لأنه غير متطوع فيرجع عليها لصحة الأمر فصار كالمأمور بقضاء الدين. وإن عمرها أي الدار لها أي للزوجة بلا إذنها أي الزوجة فالعمارة لها أي للزوجة وهو أي الزوج في العمارة متبرع في الإنفاق فلا يكون له الرجوع عليها به. وإن عمر لنفسه بلا إذنها أي الزوجة فالعمارة له أي للزوج لأن الآلة التي بنى بها ملكه فلا يخرج عن ملكه بالبناء من غير رضاه فيبقى على ملكه فيكون غاصباً للعرصة وشاغلاً ملك غيره بملكه فيؤمر بالتفريغ إن طلبت زوجته ذلك كما في التبيين، لكن بقي صورة وهي أن يعمر لنفسه بإذنها ففي الفرائد ينبغي أن تكون العمارة في هذه الصورة له والعرصة لها ولا يؤمر بالتفريغ إن طلبته انتهى.
..

n

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔