021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مورث کے مال کا حکم
..میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

وفات پانے سے پہلے میرےخاوند کی کچھ رقم میرے بھتیجوں کے پاس نقد موجود تھی، لیکن وہ آخری وقت میں بیمار ہوگئے اور ان کا علاج ان کے بھتیجے کرواتے تھے۔ اب اگر میرے خاوند کی کچھ رقم ان کے پاس باقی ہے تو اس میں میرا حق بنتا ہے یا نہیں؟ ان کے علاج پر اگر زیادہ رقم لگی ہواور زائد خرچہ ان کے بھتیجوں نے اپنی طرف سے کیا ہو تو کیا مجھ پر بھی اس خرچ شدہ رقم کا کوئی حصہ اد کرنا ضروری ہے؟ اگر ہاں تو کتنے فیصد۔ تدفین و تکفین کے خرچے کا کوئی حصہ میرے ذمہ آتا ہے یا نہیں؟

o

صورت مسئولہ میں آپ کے خاوند کے بھتیجوں کے پاس آپ کے خاوند کی جتنی بھی رقم باقی ہووہ سب وراثت کے اصول کے مطابق تقسیم ہوگی یعنی آپ کو باقی ماندہ رقم کا چوتھائی حصہ ملے گا اور باقی تین حصے آپ کے خاوند کے بھتیجوں کے درمیان برابر برابرتقسیم ہوں گے۔آپ کے خاوند کے علاج پر ان کے بھتیجوں کی طرف سے جو اضافی رقم لگی ہےتو وہ رقم ترکہ کی تقسیم سے پہلے اس میں سے وہ وصول کریں گے۔ آپ پر اس خرچ شدہ رقم کا کوئی حصہ ادا کرنا ضروری نہیں ہے۔ اسی طرح تدفین و تکفین کے خرچہ کا کوئی حصہ آپ کے ذمہ نہیں ہے بلکہ وہ ترکہ میں سے ادا کیا جائے گا۔

حوالہ جات

"(يبدأ من تركة الميت الخالية عن تعلق حق الغير بعينها كالرهن والعبد الجاني) والمأذون المديون والمبيع المحبوس بالثمن والدار المستأجرة وإنما قدمت على التكفين لتعلقها بالمال قبل صيرورته تركة (بتجهيزه) يعم التكفين (من غير تقتير ولا تبذير)" (الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار)6/759 ط:دار الفکر-بیروت) " (فيفرض للزوجة فصاعدا الثمن مع ولد أو ولد ابن) وأما مع ولد البنت فيفرض لها الربع (وإن سفل والربع لها عند عدمهما) فللزوجات حالتان الربع بلا ولد والثمن مع الولد" (الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار)6/769 ط:دار الفکر-بیروت) "(يحوز العصبة بنفسه وهو كل ذكر) فالأنثى لا تكون عصبة بنفسها بل بغيرها أو مع غيرها (لم يدخل في نسبته إلى الميت أنثى) فإن دخلت لم يكن عصبة كولد الأم فإنه ذو فرض وكأبي الأم وابن البنت فإنهما من ذوي الأرحام (ما أبقت الفرائض) أي جنسها (وعند الانفراد يحوز جميع المال) بجهة واحدة. ثم العصبات بأنفسهم أربعة أصناف جزء الميت ثم أصله ثم جزء أبيه ثم جزء جده (ويقدم الأقرب فالأقرب منهم) بهذا الترتيب فيقدم جزء الميت (كالابن ثم ابنه وإن سفل ثم أصله الأب ويكون مع البنت) بأكثر (عصبة وذا سهم) كما مر (ثم الجد الصحيح) وهو أبو الأب (وإن علا) وأما أبو الأم ففاسد من ذوي الأرحام (ثم جزء أبيه الأخ) لأبوين (ثم) لأب ثم (ابنه) لأبوين ثم لأب (وإن سفل) تأخير الإخوة عن الجد وإن علا قول أبي حنيفة وهو المختار للفتوى خلافا لهما" (الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار)6/773 ط:دار الفکر-بیروت)
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔