021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شرکت میں خرید و فروخت کا وکیل بنانے کے لیےآپس میں رضامندی کاحکم
..خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

ہم دو ساتھی بزنس پارٹنر ہیں۔ہمیں مال کی خریداری یا فروخت کے لیے کسی تیسرے شخص کی ضرورت پڑتی رہتی ہے۔ہم اپنا وکیل بنا کر کسی تیسری پارٹی کو بھیج دیتے ہیں۔پہلے اتنا مسئلہ نہیں ہوتا تھا،مگر اب کچھ عرصہ سے بہت اختلاف ہونے لگاہے۔کبھی میں راضی نہیں ہوتا کسی خاص شخص کے وکیل بنانے پر اور کبھی وہ دوسرا ساتھی راضی نہیں ہوتا،پوچھنا یہ ہے کہ کیا دوسرے کی رضامندی کے بغیر کوئی ایک کسی کو وکیل بنا سکتا ہے مال بیچنے یا خریدنے کا؟

o

شرکت میں کسی ایک شریک کے لیے کسی شخص کو وکیل بنانا جائز ہے،اس لیے کہ بیع و شراء کے لیے وکیل بنانے کی ضرورت پیش آتی رہتی ہے۔البتہ اگر کسی ایک شریک نے خرید یا فروخت کا وکیل بنایا اور دوسرے نے اسے معزول کردیا تو وکیل کی وکالت ختم ہوجائے گی،لہٰذا مسؤلہ صورت میں آپ دونوں میں سے ہر ایک کو چاہیے کہ وکیل بنانے سے پہلے دوسرے شریک کو راضی کرلیا کرے،یہ طریقہ بہتر رہے گا۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 317) (قوله: ويوكل) ؛ لأن التوكيل بالبيع والشراء من أعمال التجارة، والشركة انعقدت لها، بخلاف الوكيل صريحا بالشراء ليس له أنه يوكل به؛ لأنه عقد خاص طلب به شراء شيء بعينه فلا يستتبع مثله فتح (قوله ولو نهاه المفاوض الآخر) التقييد بالمفاوض وبكون النهي عن التوكيل اتفاقي لما مر أن كل ما كان لأحدهما فعله يصح نهي الآخر عنه ط. أقول: سياق كلام البحر يقتضي أن هذا خاص بالمفاوضة خلافا لما فهمه ح كما يعلم من مراجعة البحر لكن يخالفه ما في الخانية في فصل العنان: ولو وكل أحدهما رجلا في بيع أو شراء وأخرجه الآخر عن الوكالة صار خارجا عنها، فإن وكل البائع رجلا يتقاضى ثمن ما باع فليس للآخر أن يخرجه عن الوكالة اهـ أي ليس لأحدهما قبض ثمن ما باعه الآخر ولا المخاصمة فيه كما يأتي قريبا فكذا ليس له إخراج وكيله بالقبض.
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔