021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نائی/حجام کو دوکان کرائے پر دینا
60238اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے متفرق احکام

سوال

السلام علیکم مفتی صاحب ! میں نے اپنی دوکان ایک شخص کوکرائے پر دی تھی جس میں اس نے حجامت کا کام شروع کیا ہے جس کے ساتھ ساتھ وہ شیو بھی بناتا ہے اور ڈاڑھی بھی مونڈھتا ہے۔کیا اس کے اس گناہ میں میں بھی برابر کا شریک ہوں گا؟ برائے مہربانی اس مسئلے کا شرعی حل بتادیں۔

o

صورتِ مسئولہ میں اگر آپ کو پہلے سے معلوم نہ تھا کہ نائی اس دکان میں ڈاڑھی مونڈھنے وغیرہ کا ناجائز کام بھی کرے گا تو ایسی صورت میں آپ گنہگار نہیں ،اب تک لی ہوئی اجرت بھی حلال ہے،البتہ اب اگر آپ کو معلوم ہے کہ نائی اس دوکان میں اکثر خلافِ شرع اور گناہ کے کام کررہا ہے تو پہلے اس کو منع کریں پھر بھی باز نہ آئے تو آپ پر لازم ہےکہ اس سے دوکان خالی کرواکردوکان واپس لے لیں ورنہ آپ بھی اس کے گناہ میں شریک و معاون ہوں گے۔

حوالہ جات

وجاز إجارة ...الحجام « لأنه - عليه الصلاة والسلام - احتجم وأعطى الحجام أجرته» وحديث النهي عن كسبه منسوخ…..لا تصح الإجارة …لأجل المعاصي مثل الغناء والنوح والملاهي. (الدر المختار وحاشية ابن عابدين :6 / 52) أن يكون الحلالُ عند الغاصب أو كاسب الحرام متميّزاً من الحرام، فيجرى على كلّ واحدٍ منهما أحكامُه. وإن أعطى أحداً من الحلال حلّ للآخذ، وإن أعطى من الحرام حرُم عليه، وإن علم الآخذُ أنّ الحلال والحرام متميّزان عنده، ولكن لم يعلَمْ أنّ ما يأخذه من الحلال أو من الحرام، فالعبرةُ عند الحنفيّة للغلَبة. فإن كان الغالبُ فى مال المعطى الحرامَ، لم يجُزْ له، وإن كان الغالبُ فى ماله الحلال، وسِع له ذلك. (احكام المال الحرام:1 / 17) وهذا كله إذا كان سببا قريباً باعثاً وجالباً للمعصية كسب الآلهة الباطلةوضرب النساء بأرجلهن وخضوعهن في الكلام فإن هذه كلها أسباب جالبةللمعصي فتعد أسبابا قريبة وأما إذا كان سببا بعيدا كبيع العصير لمن يتخذهخمرا أو اجارة الدار لمن يتعاطي فيها بالمعاصي وعبادة غير الله فإن لم يعلم بقصد المشتري والمستجير، وبمايعمل فيه جاز بلاكراهة وإن علم ذالك كره تنزيهاً، فإن هذا البيع والإجارة ليس سببا جالبا وباعثا للمعصية كسبّ الآلهة وضرب النساء بالأرجل مالم ينوِ أو يصرّح بعمل المعصية ، نعم! بعد العلم بما يعمل لا يخلو عن شيئ من التسبّب للمعصية ولو بعيداً فكان التنزه عنه أولي... (احکام القرآن للتهانوي رحمة الله عليه:٣ /٨١ )
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔