021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بہواور بیوی کی طرف سے قربانی کرنے کا حکم
..قربانی کا بیانقربانی کے متفرق مسائل

سوال

ایک شخص ہے اس کے گھر کے افراد میں سے اس پر ،اس کی بیوی پر اور اس کی بہو پر قربانی واجب ہے۔ اگر وہ شخص کسی دوسرے آدمی سے ملکر گائے یا بیل لے آئیں اور یہ نیت کر لے کہ تین نام اس کی طرف سے اور تین ہمارے ،چونکہ ایک گائے میں سات نام دے سکتے ہیں تو کیا ان سب کا واجب ادا ء ہو جائےگا؟

o

شرعا اونٹ،گائےوغیرہ بڑے جانور میں زیادہ سے زیادہ سات شریک ہوسکتے ہیں، اس سے زیادہ شرکاء کی صورت میں کسی شریک کی قربانی درست نہیں لیکن اگر اونٹ میں قربانی کرنے والے شرکا ء سات سے کم ہوں تو اس صورت میں قربانی جائز ہے۔ صورت مسؤلہ میں اگر مذکورہ شخص جو دو نام اپنی بہو اور بیوی کی اجازت سے دے رہا ہے اور ان کی اجازت سے قربانی کررہا ہے ، تو اس صورت میں سب کے واجب ادا ہوجائیں گے، لیکن اگر اجازت اس میں شامل نہیں ہے تواس صورت میں واجب قربانی ادا نہیں ہوگی۔

حوالہ جات

" (وصح) (اشتراك ستة في بدنة شريت لأضحية) أي إن نوى وقت الشراء الاشتراك صح استحسانا وإلا لا (استحسانا وذا) أي الاشتراك (قبل الشراء أحب،" (الدر المختار وحاشية ابن عابدين :6/ 317) وفی الفتاوی الھندیۃ: "اذا ضحى بشاة نفسه عن غيره بأمر ذلك الغير أو بغير أمره لا تجوز؛ لأنه لا يمكن تجويز التضحية عن الغير إلا بإثبات الملك لذلك الغير في الشاة، ولن يثبت الملك له في الشاة إلا بالقبض، ولم يوجد قبض الآمر هاهنا لا بنفسه ولا بنائبه، كذا في الذخيرة.۔۔۔۔۔۔۔۔۔ولو ضحى ببدنة عن نفسه وعرسه وأولاده ليس هذا في ظاهر الرواية وقال الحسن بن زياد في كتاب الأضحية: إن كان أولاده صغارا جاز عنه وعنهم جميعا في قول أبي حنيفة وأبي يوسف - رحمهما الله تعالى -، وإن كانوا كبارا إن فعل بأمرهم جاز عن الكل في قول أبي حنيفة وأبي يوسف رحمهما الله تعالى، وإن فعل بغير أمرهم أو بغير أمر بعضهم لا تجوز عنه ولا عنهم في قولهم جميعا؛ لأن نصيب من لم يأمر صار لحما فصار الكل لحما، وفي قول الحسن بن زياد إذا ضحى ببدنة عن نفسه وعن خمسة من أولاده الصغار وعن أم ولده بأمرها أو بغير أمرها لا تجوز عنه ولا عنهم، قال أبو القاسم - رحمه الله تعالى -: تجوز عن نفسه، كذا في فتاوى قاضي خان." (الفتاوى الهندية :5/ 302)
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔