021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جمعہ کی اذانِ اول کےبعدکاروبارکرناجائزنہیں
..نماز کا بیانجمعہ و عیدین کے مسائل

سوال

جناب مفتی صاحب!میں عطر کا کاروبار کرتاہوں اور مسجد کےساتھ ہی میری عطرکی دکان ہے۔میرے دوست نےایک بارمجھ سےکہا کہ جب جمعہ کی اذان ہوجائےتوکاروبار بندکردیاکرواورجمعہ کی تیاری کرو ،میں نےاس وقت اس کوجواب نہیں دیا،پھرکچھ عرصےبعداس نےپھرکہا کہ جمعہ کےدن اذان کےبعدکاروبارکرناٹھیک نہیں،میں نےکہا کہ جمعہ کاسب سےاہم اورضروری عمل جمعہ کاخطبہ سنناہےاورہمارےہاں اذان اورخطبےکےدرمیان 45سے50منٹ کاوقت ہوتاہےاورمیں خطبےسے دس پندرہ منٹ پہلےدکان بندکرتاہوں اورسہولت کےساتھ جمعہ کاخطبہ سنتاہوں،انہوں نےکہاکہ آپ کسی عالم سےمعلوم کرلیں۔اب آپ اس مسئلہ کاشرعی حکم بتائیں ۔

o

جمعہ کےدن اذانِ اول کےبعدجمعہ کی تیاری کےعلاوہ کسی دوسرےکام میں مصروف رہناجائز نہیں۔

حوالہ جات

وإذا أذن المؤذنون الأذان الأول ترك الناس البيع والشراء وتوجهوا إلى الجمعة " لقوله تعالى: {فَاسَعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ} [الجمعة: 9] وإذا صعد الإمام المنبر جلس وأذن المؤذنون بين يدي المنبر بذلك جرى التوارث ولم يكن على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم إلا هذا الأذان ولهذا قيل هو المعتبر في وجوب السعي وحرمة البيع والأصح أن المعتبر هو الأول إذا كان بعد الزوال لحصول الإعلام به والله أعلم. (الهداية :1/ 119،مکتبۃادارۃالقرآن) (ووجب سعي إليها وترك البيع) ولو مع السعي، في المسجد أعظم وزرا (بالأذان الأول) في الأصح وإن لم يكن في زمن الرسول بل في زمن عثمان.وأفاد في البحر صحة إطلاق الحرمة على المكروه تحريما (الدر المختار )(قوله وترك البيع) أراد به كل عمل ينافي السعي وخصه اتباعا للآية نهر (قوله: ولو مع السعي) صرح في السراج بعدم الكراهة إذا لم يشغله بحر وينبغي التعويل على الأول نهر. (رد المحتار:3/ 42 دارالمعرفۃ)
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

ابولبابہ شاہ منصور صاحب / فیصل احمد صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔