021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
پیشگی زکوٰۃ کی ادائیگی کا حکم
..زکوة کابیانزکوة کے جدید اور متفرق مسائل کا بیان

سوال

مسئلہ یہ پوچھنا ہے کہ ایک آدمی سال کے شروع سےہی تھوڑی تھوڑی کرکےزکوٰۃ دیتا ہے پھر سال پورا ہونے پر ادا کی گئی رقم کے علاوہ جو رقم بنتی ہے وہ دے دے،کیا اس طریقے سے ایڈوانس جو رقم دی تھی اس سے زکوٰۃ ادا ہو جائےگی۔

o

صاحب نصاب ہوجانے کے بعد زکوٰۃ کا نفسِ وجوب ہو جاتا ہے، اس لیے سال پورا ہونے سے پہلے جو رقم تھوڑی تھوڑی کرکے ایڈوانس زکوٰۃ کی نیت سےادا کی ہےاس سے زکوٰۃادا ہو جائے گی۔

حوالہ جات

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (1/ 274) قال - رحمه الله -: (ولو عجل ذو نصاب لسنين أو لنصب صح)۔۔۔ الدر المختار مع رد المحتار (7/ 59) ( ولو عجل ذو نصاب ) زكاته ( لسنين أو لنصب صح ) لوجود السببای سبب الوجوب وھو ملک النصاب النامی فیجوز التعجیل لسنۃ او اکثر۔۔۔ البحر الرائق شرح كنز الدقائق (5/ 492) ( قوله : ولو عجل ذو نصاب لسنين أو لنصب صح ) أما الأول فلأنه أدى بعد سبب الوجوب فيجوز لسنة ولسنين كما إذا كفر بعد الجرح۔۔۔
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔