021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ایسی ملازمت کاحکم جس میں نمازقضاکرنی پڑتی ہو
60767جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

میری نائٹ ڈیوٹی ہے،جس کی وجہ سے عصر،مغرب اورعشاء کی نمازقضاہورہی ہیں،اس کاکیاحکم ہے؟

o

نماز دین اسلام کے بنیادی ارکان میں سب سے پہلارکن ہے ، وقت پراس کی ادائیگی کی بہت زیادہ اہمیت ہے،نمازکوسستی ،غفلت اوربغیرکسی معقول عذرکے کسی صورت میں موخراورقضاءکرنے کی اجازت نہیں۔ نمازمیں سستی اورغفلت کومنافق کی علامت میں شمارکرکے اس کے لئے ہلاکت کی بددعاکی گئی ہے ،نیزاس پراحادیث میں بے شماروعیدیں آئی ہیں ،اس لئے نمازمیں کسی صورت غفلت اورسستی کرنے کی اجازت نہیں ،نمازکواپنے وقت پرپڑھنالازم ہے۔اوراگرنمازقضاء کرنے کی وجہ متلعقہ کمپنی کی طرف سے نمازپڑھنے کی اجازت کانہ ہوناہوتوایسی کمپنی میں ملازمت اختیارکرناجائزنہیں،کسی ایسی جگہ ملازمت اختیارکی جائے جس میں نمازکی اجازت ہواوراگرفوری طورپرکوئی مناسب جگہ نہ مل رہی ہواوراس ملازمت کے چھوڑنے کی نتیجہ میں نان ونفقہ کےانتظام میں مشکلات کااندیشہ ہے تواس ملازمت کوجاری رکھاجائے ،لیکن دوسری جگہ کی تلاش مسلسل جاری رکھی جائے ،نیزاپنے اس عمل پراستغفاربھی کیاجائے۔

حوالہ جات

قول الله تعالى : { فويل للمصلين الذين هم عن صلاتهم ساهون الذين هم يراءون ويمنعون الماعون } (سورة الماعون) الجامع الصحيح سنن الترمذي (ج 5 / ص 7): عن جابر أن النبي صلى الله عليه وسلم قال:﴿ بين الكفر والإيمان ترك الصلاة﴾ المعجم الأوسط لأبو القاسم الطبراني - (ج 3 / ص 343) عن أنس بن مالك قال: قال رسول الله صلى الله عليه و سلم :﴿من ترك الصلاة متعمدا فقد كفر﴾ أحكام القرآن للجصاص (ج 2 / ص 162): ” وأمر بفعلها على الأحوال كلها ولم يرخص في تركها لأجل الخوف فقال تعالى فإن خفتم فرجالا أو ركبانا قوله فرجالا. “
..

n

مجیب

محمد اویس صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔