021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
موروثی زمین پر ایک وارث کا بلا اذن تعمیرکردہ مکان کاحکم
60753میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

60گز کے ایک مکان میں ہم چاربھائی شریک ہیں جو ہمیں والد مرحوم کے ترکہ میں ملاتھا، ایک بھائی نے اوپر کی منزل میں اپنے ذاتی پیسے سے ہم سے پوچھے بغیرتعمیربنائی ، ہم لوگ خاموش رہے،اب ہم اس مکان کو باہم تقسیم کرناچاہتے ہیں،تعمیرکرنے والے بھائی کاکہناہے کہ مکان فروخت کرکے پہلے میرے حصہ تعمیرکی قیمت مجھے دیدو،پھر باقی رقم تمام ورثہ میں شرعی حصوں کے مطابق تقسیم کردو،کیا ان کایہ کہنا درست ہے ؟شرعی اعتبارسے یہ مکان اوراس میں اضافی تعمیرکس طرح تقسیم ہوگی ؟

o

اگرواقعۃ شاہدہ نے مشترکہ موروثی مکان کے او پر تعمیرِ مکان کے لیے باقی ورثہ سے اجازت نہیں لی تھی تواب اس مکان کاشرعی حکم یہ ہے کہ اس نئےمکان کی عمارت تعمیربنانے والے بہن کی ہے، اور زمین آپ سب کی مشترک ہے،لہذاپہلے مصالحت کی کوشش کی جائے اگر مصالحت کے ذریعے کوئی بات طے ہوجائے تو اس کے مطابق عمل کیا جائے، ورنہ آپ سب ورثہ مکان کی تقسیم کامطالبہ کرسکتے ہیں،تقسیم کے بعد اگر مذکورہ مکان تعمیرکرنے والی شاہدہ کے حصہ کے اوپر آجائے بہت اچھا اوراگر آپ باقی ورثہ میں سے کسی کے حصہ میں آجائے تو وہ تعمیرکرنے والی شاہدہ سے یہ کہہ سکتا ہے کہ اپنا مکان اُٹھالیں اورمیری جگہ خالی کردیں، اور شرعاًاس پر جگہ خالی کرنا لازمی ہوگا۔ اوراس صورت میں جس بھائی کے حصہ میں مکان آیا ہے اس کو یہ بھی اختیارہےکہ اگر تعمیرکرنے والابھائی قیمت لینے پر راضی تو وہ اس کومکان کے ملبہ کی قیمت دیدےاورمکان خود لےلے۔یہ توحکم مشترکہ مکان کے اورپر کی تعمیرکا جہاں تک نچلے موروثی مکان پر مرمت کے خرچے کا تعلق ہے تو اگرمکان قابل تقسیم تھااورشاہداس کی تعمیرپرمجبورنہیں تھی توپھریہ مکان سب کا مشترک ہو گااورشاہد خرچ میں متبرع سمجی جائے گی اوراگر وہ تعمیر پر مجبورتھی توپھر وہ خرچ ہونے والے رقم سب پر مشترکہ طورپر اپنے اپنے حصوں کے بقدرآئے گی۔

حوالہ جات

وفی تنقيح الفتاوى الحامدية(2/157) ( سئل ) فيما إذا بنى زيد قصرا بماله لنفسه في دار مشتركة بينه وبين إخوته بدون إذنهم فهل يكون البناء ملكا له ؟ ( الجواب ) : نعم وإذا بنى في الأرض المشتركة بغير إذن الشريك له أن ينقض بناءه ذكره في التتارخانية من متفرقات القسمة . ( سئل ) في دار مشتركة بين جماعة بنى فيها بعضهم بناء لأنفسهم بآلات هي لهم بدون إذن الباقين ويريد بقية الشركاء قسمة نصيبهم من الدار المذكورة وهي قابلة للقسمة فهل لهم ذلك وما حكم البناء ؟ ( الجواب ) : حيث كانت قابلة للقسمة وينتفع كل بنصيبه بعد القسمة فلبقية الشركاء ذلك ثم البناء حيث كان بدون إذنهم إن وقع في نصيب البانين بعد قسمة الدار فبها ونعمت وإلا هدم البناء كما في التنوير وغيره . فی رد المحتار(6/747سعید) کل من بنی فی دار غیرہ بامرہ فالبناء لآمرہ ولولنفسہ بلاأمرہ فھولہ ولہ رفعہ. وفی شرح المجلۃ (ص:647رقم المادۃ 1173) إذا بنی احد الشرکاء لنفسہ فی الملک المشترک القابل للقسمۃ بدون اذن الآخرین ثم طلب الآخرون القسمۃ تقسم فإن خرج ذلک البناء فی نصیب بانیہ فبھاوإن خرج فی نصیب الآخرفلہ أن یکلف بانیہ ھدمہ ورفعہ . الدر المختار (4/ 332) والضابط أن كل من أجبر أن يفعل مع شريكه إذا فعله أحدهما بلا إذن فهو متطوع وإلا لا. حاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 333) بخلاف ما إذا كان مريد الإنفاق غير مضطر وكان صاحبه لا يجبر كدار يمكن قسمتها وامتنع الشريك من العمارة فإنه لا يجبر، فلو أنفق عليها الآخر بلا إذنه فهو متبرع؛ لأنه غير مضطر إذ يمكنه أن يقسم حصته ويعمرها كما صرح به في الخانية، ويعلم مما يأتي من التقييد بما لا يقسم أيضا، وبه علم أنه لا بد من التقييد بالاضطرار كما قلنا، وإلا لزم أن لا يكون متبرعا حيث أمكنته القسمة. وفی رد المحتارعلی الدر المختار (4/ 334) والذي تحصل في هذا المحل أن الشريك إذا لم يضطر إلى العمارة مع شريكه بأن أمكنه القسمة فأنفق بلا إذنه فهو متبرع، وإن اضطر وكان الشريك يجبر على العمل معه فلا بد من إذنه أو أمر القاضي فيرجع بما أنفق، وإلا فهو متبرع إن اضطر وكان شريكه لا يجبر، فإن أنفق بإذنه أو بأمر القاضي رجع بما أنفق أو لا فبالقيمة، فاغتنم تحرير هذا المقام الذي هو مزلة أقدام الأفهام.
..

n

مجیب

سید حکیم شاہ صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔