021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جسمانی کمزوری/ بڑھاپا کی بناء پرفدیہ دینے کاحکم
60764روزے کا بیانوہ اعذار جن میں روزھ رافطارکرنا) نہ رکھنا( جائز ہے

سوال

میری والدہ جن کی عمر65سال ہے،ان کے مطابق وہ بچپن سے رمضان کے روزےمستقل رکھتے چلی آرہی ہیں ،لیکن پچھلے پانچ سال سےکمزوری کی وجہ سے رمضان کے لگاتارروزےنہیں رکھ سکتی ،چھوڑچھوڑکررکھتی رہی ہیں ،ہررمضان پانچ سے سات روزے چھوڑے ہیں اوراس نیت سے چھوڑے ہیں کہ رمضان کے بعدرکھ لیں گی ،لیکن بعدمیں وہ نہ رکھ سکیں ،آخری سال کمزوری زیادہ ہونے کی وجہ سے تقریباسارے روزے ہی چھوڑدئیے،ڈاکٹرکے پاس وہ جاتی نہیں اورخودٹیسٹ کیاتووٹامن ڈی نہ ہونے کے برابررزلٹ آیا۔گھرکے سارے کام خودکرتی ہیں ،ان کے لئے کیاحل ہے ؟

o

اگرآپ کی والدہ کاضعف زیادہ ہے اورروزہ رکھنے کی وجہ سے بہت زیادہ کمزوری کااندیشہ ہے,ٹھیک ہونے کےبظاہرامکانات نہیں ہیں توآپ کے والدہ کے ذمہ قضاروزوں کے بدلہ فدیہ دینالازم ہے ،ہرروزہ کےفدیہ میں سوادوکلوگندم یااس کی قیمت کسی مستحق کودیناضروری ہے۔

حوالہ جات

رد المحتار (ج 8 / ص 6): "( وللشيخ الفاني العاجز عن الصوم الفطر ويفدي ) وجوبا ولو في أول الشهر وبلا تعدد فقير كالفطرة لو موسرا وإلا فيستغفر الله." تحفة الملوك (ج 1 / ص 146): "والشيخ العاجز عن الصوم : يفطر ويفدي عن كل يوم نصف صاع من بر أو صاعا من تمر أو شعير فإن قدر على الصوم بعد الفدية قضى."
..

n

مجیب

محمد اویس صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔