021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
میراث کی تقسیم
56150میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ عبد الحمید کا انتقال ہوا اس کے تین بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں اہلیہ عبد الحمید سے پہلے فوت ہوچکی ہیں ،بعض وجوہا ت سے عبد الحمید کی میراث تقسیم کرنے میں تا خیر ہوئی ، اس دوران ایک بیٹے کا انتقال ہوگیا جس کا ایک بیٹا اور اور ایک بیٹی اور بیوہ حیات ہیں ، عبد الحمید کا ایک مکان ہے جس کی قیمت تقریبا بیس لاکھ ہے ۔اب ورثا میں میراث کس طرح تقسیم ہوگی ؟ بیس لاکھ کے اعتبار سے کس وارث کا حصہ کتنا ہوگا؟

o

١۔مرحوم عبد الحمید نے بوقت انتقال منقولہ غیر منقولہ جائداد ،سونا چاندی،نقدی اور دیگر چھوٹا بڑا جو بھی سامان اپنی ملک میں چھوڑا ہے سب مرحوم کا ترکہ ہے، اس میں سے پہلےاگر مرحوم کے ذمہ کسی کا قرض ہو تو اس کو ادا کردیا جائے ، اس کے بعد اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو تہائی مال کی حد تک اس کو نافذ کیا جائے ،اس کےبعد کل مال میں تینوںلڑکوں میں سے ہر ایک کا حصہ = ٪ 25اور دونوں لڑکیوں میں سے ہر ایک کا حصہ = ٪ 5. 12 ۲۔اس کےبعد مرحوم کا بڑا لڑکا جس کا انتقال ہوااس کی ملک میں مذکورہ بالا تفصیل کے مطابق جتنا مال ہے اوراس میں والد مرحوم عبد الحمید کی میراث سے ملنے والا حصہ بھی شامل کیا جائے ,یہ سب اس کا ترکہ ہے پھر نمبر ایک میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق حقوق متقدمہ کی ادائیگی کے بعد کل مال میں بیوہ کا حصہ =٪ 5 .12اور لڑکے کا حصہ = ٪ 333 . 58 اور لڑکی کاحصہ = ٪ 166. 29 اگر ترکہ صرف یہی مکان ہےاور اس کی موجودہ قیمت بیس لاکھ ہے تو یہ مکان مذکورہ ورثا میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ تینوں لڑکوں میں سے ہر ایک کو پانچ پانچ لاکھ اور دونوں لڑکیوں میں سے ہر ایک کو ڈھائی ڈھائی لاکھ دیا جائے گا ،پھر مرحوم کے بڑے لڑکے کو جو پانچ لاکھ ملا وہ اسکی اولاد اور بیوہ میں اس طرح تقسیم ہوگا بیوہ کاحصہ =62500اور لڑکے کا حصہ = 291666اور لڑکی کا حصہ =145833

حوالہ جات

۔
..

n

مجیب

احسان اللہ شائق صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / فیصل احمد صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔