زندگی میں مرحومہ نے اپنے دوبھائیوں کے لئے (ایک بھائی فوت ہوچکےہیں ،ان کی اولادہے اوردوسرے بھائی بقید حیات ہیں )مجھ سے اپنے نام پرقرض لیاتھاکہ مجھے وہ قرض واپس لوٹائیں گی ،کیاان کی وفات کے بعدمیں اپناقرض ان کے اثاثہ جات (زیور،زمین وغیرہ )سے لے سکتاہوں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مرحومہ کے ذمہ جتناآپ کاقرض ہے اس کی بقدرتقسیم ترکہ سے پہلےلے سکتے ہیں ۔
حوالہ جات
تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق - (ج 18 / ص 388)
" ( يبدأ من تركة الميت بتجهيزه )والمراد من التركة ما تركه الميت خاليا عن تعلق حق الغير بعينه .... (ثم ديونه ) لقوله تعالى { من بعد وصية يوصي بها أو دين } { قال علي كرم الله وجهه إنكم تقرءون الوصية مقدمة على الدين ، وقد شهدت النبي صلى الله عليه وسلم قدم الدين على الوصية } ، ولأن الدين واجب ابتداء ، والوصية تبرع ، والبداية بالواجب أولى ."