021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بائع کا غلطی سے کم قیمت پر فروخت کرنا، اب تلافی لازم ہے؟
61174/57 خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک مرتبہ میں گھی لینے کے لیے دکان پر گیا تو دکان بند تھی۔پھر میں کینٹین پر گیا اور وہاں ایک بندے سے کہا کہ مجھے گھی چاہیے،اس نے مجھے گھی کا ایک ڈبہ دیا اور قیمت ستر روپے بتائی۔میں نے کہا کہ پچاس کا دے دو! تو اس نے دے دیا۔دوسری دفعہ پھر میں کینٹین پر گھی لینے کے لیے گیا تو وہاں ایک اور شخص تھا،میں نے اس کو کہا کہ مجھے گھی چاہیے! تو اس نے اسی طرح کا ڈبہ دیا اور قیمت ڈھائی سو روپیہ بتائی۔میں نے کہا کہ اس دن تو میں نے فلاں بندے سے پچاس کا لیا تھا۔اس نے اس بندے سے پوچھا کہ آپ نے پچاس کا کیوں دیا؟ یہ تو دیسی گھی ہے،اس پر اس بندے نے کہا کہ مجھ سے غلطی ہوئی ہے۔ اب وہ شخص کہتا ہے کہ آپ بقیہ رقم کب دیں گے؟سوال یہ ہے کہ پہلے گھی کے ثمن سے بقیہ رقم مجھے ادا کرنا لازم ہے یا نہیں؟حالانکہ پہلا عقد تو مکمل ہو چکا ہے۔

o

صورتِ مسئولہ میں چونکہ واضح طور پر پہلے شخص سے غلطی ہوئی ہے اور اس نے دیسی گھی کو عام گھی سمجھ کر سستے داموں آپ پر فروخت کر کے نقصان اٹھایا ہے،جس کو آپ بھی تسلیم کرتے ہیں،اس لیے اب آپ اسے اتنی قیمت واپس کردیں۔

حوالہ جات

وفی شرح المجلۃ:إذا وجد غبن فاحش في البيع ولم يوجد تغرير فليس للمغبون أن يفسخ البيع. وفی دررالحکام :المراد من كلمة بلا تغرير يعني أن يكون أحد المتبايعين لم يغرر بالآخر فعليه إذا وقع الغبن على هذه الصورة أي بأن يغبن أحد المتبايعين من نفسه؛ فليس له خيار الغبن ولذلك لا يحق له فسخ البيع حتى لو باع شخص ماله الذي بقيمة قرش واحد بألف قرش فالبيع صحيح أي لا يوجد في البيع في حد ذاته خلل ولا يقال بأن البيع غير صحيح بسبب بيعه بثمن فاحش جدا إلا أن البيع المذكور عند الإمام الثالث مكروه أما عند الإمام الثاني فهو غير مكروه (أنقروي) (درر الحكام في شرح مجلة الأحکام:1/ 368) قال العلامۃ تقی العثمانی مد ظلہ العالی :”و یتحصل من ھذہ الجزئیات أنہ یصعب بیان حکم عام للخطاء فی جمیع العقود وجمیع الحالات . وإن الاصل المتبع فیہ ھو أثر الخطاء علی التراضی،ومعرفۃ مستوی الضرر الذی حصل بسبب الخطاء،و تعیین من یتحمل تبعۃ ذلک الخطاء.وھذا یمکن أن یختلف من عقد إلی عقد، ومن حال إلی حال.ولعل ھذا ھو السبب فی أن الفقھاء لم یذکروہ کأصل،وإنما تکلموا علی حکمہ فی مختلف الأبواب والجزئیات؛لان لکل واحد منھا حکما مستقلا لا یجب أن یطرد فی الأحوال والجزئیات الأخری. والفصل فی مثل ھذہ الأشیاء موکول إلی القضاء ،ویحکم القاضی حسب ما یراہ أوفق بالعدل والأصول الثابتۃ فی کل قضیۃ تعرض أمامہ…اما الخطاء الفردی فلا یؤثر علی صحۃ العقد فی عامۃ الأحوال ویبقی العقد صحیصا.“(فقہ البیوع:1/220،221)
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

ابولبابہ شاہ منصور صاحب / فیصل احمد صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔