021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نکاح سے متعلق ایک رسم (بوقتِ نکاح دولہاکی کلائی پکڑ کراولادکانکاح لازم سمجھنا)کاحکم
..نکاح کا بیاننکاح کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

ژوب کے علاقہ شیروانی میں یہ رسم رائج ہے کہ بوقتِ نکاح دولہا کا دوست دولہاکی کلائی پکڑ کر یہ کہتاہے کہ میں نے آپ کی رگ پکڑلی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر دولہا اورمذکورہ دوست کے ہاں اولاد پیداہوجائیں تو لڑکااورلڑکی کا نکاح کردیاجائےگا،جب اولاد ہوجاتی ہیں تو پھر یہ رشتہ دینا ہمارے ہاں لازمی سمجھاجاتاہے ،اگر نہ دیا جائے تو بہت جنگ وجدال تک نوبت پہنچ جاتی ہے ،اب پوچھنا یہ ہے کہ کیامعدوم کا رشتہ ہوجاتاہے ؟اس طرح کا رشتہ کیاجائے تو لڑکی کو فسخِ نکاح کا اختیارہوگا یا نہیں؟مذکورہ رسموں کی شرعی حیثیت کیاہے؟قرآن وحدیث کی روشنی میں بیان فرمائیں۔

o

سوال میں ذکر کردہ عمل نکاح نہیں، بلکہ نکاح سے متعلق ایک رسم ہے جو خلاف ِ شرع اورلڑکا، لڑکی پر ظلم کاباعث بننے والی چیز ہے،معلوم نہیں پیدا ہونے اور بالغ ہونے تک ان کی شکل وصورت کیابنتی ہےاورصحت اورمعذوری وغیر ہ کے حوالے سے یہ کیسے ہونگے؟نیزوہ ایک دوسرے کوبالغ ہونے کے بعدپسند بھی کریں گے یانہیں ؟ اس طرح کے رشتے بالعموم ناپائیدار ہوتے ہیں ،لہذا اس طریقے سے لڑکی کو اپنے مفادات کی بھینٹ چڑھانااوراس کے ذریعے دوستیاں نبھانا شرعاً درست نہیں ،اس طرح کےوعدہ کی شرعاً کوئی اصل نہیں،لہذا لڑکی کےپیدا ہونے پر والد مصلحت سمجھے تو اس کا نکاح دوست کےبیٹے سے کرادے ورنہ جہاں مصلحت ہو وہاں کرادے ،لہذا نکاح نہ کرانے کی صورت میں دوست کا جنگ وجدال کرنابالکل جائز نہیں معاشرے کے تمام لوگوں پر لازم ہے کہ وہ اس طرح کے فضول اور ناجائز رسم و رواج کو ختم کریں،اگر لڑکی کا والد خلافِ مصلحت محض دوستی یا معاشرتی دباؤ کی خاطراس طرح کا نکاح کرناچاہے اورلڑکی بالغ ہو اوراس پر راضی نہ ہوتو وہ نکاح سے انکارکرسکتی ہے،انکارکی صورت میں پھر والد کےلیے اس پر جبرکاحق نہیں ہوگا۔

حوالہ جات

وفی المشکوۃ (ص۲۷۰) وعن ابن عباس رضی الله عنھما أن النبی ﷺ قال :الأیم أحق بنفسھا من وَّلیھا والبکر تستأذن فی نفسھا واذنھا صماتھا. وفی الاختيار لتعليل المختار (ج 1 / ص 32): ولا إجبار على البكر البالغة في النكاح. والسنة للولي أن يستأمر البكر قبل النكاح ويذكر لها الزوج فيقول: إن فلاناً يخطبك أو يذكرك، فإذا سكتت فقد رضيت، ولو ضحكت فهو إذن، ولو بكت إن كان بغير صوت فهو رضاً، ولو استأذنها غير الولي فلا بد من القول؛ وإذن الثيب بالقول. وفی الدر المختار(2/320) وفی شرح المجمع: حتی لو عرف الأب بسوء الإختیارلسفھہ أولطمعہ لایجوز عقدہ إجماعا.
..

n

مجیب

سید حکیم شاہ صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔