021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مسجدکےلاؤڈ سپیکرپر موبائل کے ذریعے سے نظمیں وغیرہ چلانا
..وقف کے مسائلمسجد کے احکام و مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ مسجد میں لاؤڈ سپیکر پر موبائل فون،ٹیپ ریکارڈ یا کسی اور ذریعے سے نظمیں وغیرہ چلانا کیسا ہے؟گاؤں میں یہ ایک رواج بن گیا ہے،خاص طور پر رمضان میں سحری کے وقت اور افطاری کے بعد سے عشاء تک نظمیں وغیرہ چلائی جاتی ہیں،جس سے لوگوں کو تکلیف بھی ہوتی ہے اور عبادات میں خلل بھی آتا ہے۔کیا ایسا کرنا درست ہے؟

o

مسجد میں منعقد کسی مجلس میں ایسی نعتیں یا نظمیں پڑھنا جن کے اشعار میں غیرشرعی مفہوم نہ ہو جائز ہے،لیکن جو صورتِ حال سوال میں مذکور ہے کہ لاؤڈ سپیکر پر ٹیپ یا موبائل سے نظمیں لگادیتے ہیں،جس سے لوگوں کو تکلیف ہوتی ہے،تو یہ عمل جائز نہیں اور ایذاءِ مسلم حرام ہے۔ کوئی بھی ایسا کام جس سے لوگوں کی عبادات یا نیند وغیرہ میں خلل آتا ہو جائز نہیں،اس لیے لاؤڈ سپیکر پر نظمیں وغیرہ نہیں لگانی چاہییں۔نیز اِس میں مسجد کی بجلی اور سپیکر کا بے جا استعمال بھی ہے جو ناجائز ہے۔

حوالہ جات

قال الحصکفی رحمہ اللہ:” وإنشاد ضالة أو شعر إلا ما فيه ذكر،ورفع صوت بذكر إلا للمتفقهة… وقال الشامی:” وقد أخرج الإمام الطحاوي في شرح معانی الآثار أنه صلى الله عليه وسلم نهى أن تنشد الأشعار في المسجد، وأن تباع فيه السلع، وأن يتحلق فيه قبل الصلاة. ثم وفق بينه وبين ما ورد أنه صلى الله عليه وسلم وضع لحسان منبرا ينشد عليه الشعر ، بحمل الأول على ما كانت قريش تهجوه به ونحوه مما فيه ضرر، أو على ما يغلب على المسجد حتى يكون أكثر من فيه متشاغلا به. وقال أیضاً تحت قول”ورفع الصوت بالذکر“:” وهناك أحاديث اقتضت طلب الإسرار.والجمع بينهما بأن ذلك يختلف باختلاف الأشخاص والأحوال… وفي حاشية الحموي عن الإمام الشعراني: أجمع العلماء سلفا وخلفا على استحباب ذكر الجماعة في المساجد وغيرها إلا أن يشوش جهرهم على نائم أو مصل أو قارئ إلخ (الدرالمختار مع ردالمختار:2/523) وفی الھندیۃ: لا يقرأ جهرا عند المشتغلين بالأعمال. )الفتاوى الهندية :5/ 316)
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔