021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
چار بھائی اور پانچ بہنوں میں میراث کی تقسیم
..میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

ہم چار بھائی اور پانچ بہنیں ہیں۔میرے دو بھائی امریکہ میں رہتے ہیں اور ایک علیحدہ گھر میں رہتا ہے۔والد کے انتقال کے وقت جس گھر میں ہم رہتے تھے،اس میں اب میں رہ رہا ہوں،اب بھائی اس گھر کو بیچنا چاہتے ہیں،تاکہ ہر ایک کو اپنا حصہ ملے،برائے مہربانی شریعت کے مطابق تقسیم کا طریقہ بتائیں۔

o

مرحوم کے ترکہ سے تجہیز وتکفین کا خرچ نکالنے کے بعد اگر ان کے ذمہ قرض وغیرہ مالی واجبات ہوں تو انہیں ادا کیا جائے گا،پھر اگر انہوں نے کوئی وصیت کی ہو تو باقی ماندہ ترکہ کے ایک تہائی تک اسے پورا کیا جائے، پھر جو ترکہ بچ جائے اس کو مجموعی قیمت کے اعتبار سے تیرہ(13)برابر حصوں میں تقسیم کرکے ہر ایک بھائی کو دو اور ہر بہن کو ایک حصہ دیا جائے۔ فیصد کے اعتبار سے ہر بھائی کو ترکے کی مجموعی قیمت میں سے٪ 15.384اور ہر بہن کو٪ 7.692 حصہ ملے گا۔ مسئلہ13 ترکہ:100 ميــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 4بیٹےــــــــــــــــــــــــ 5بیٹیاں عصبہ ہر طائفے کا حصہ: 8 5 ہر فرد کا حصہ: 2 1 ہر فرد کا فیصدی حصہ: % 15.384 % 7.692

حوالہ جات

قال الشیخ سراج محمد بن عبد الرشید السجاوندی رحمہ اللہ تعالی:أما للزوجات فحالتان:الربع للواحدۃ فصاعدۃ عندعدم الولد وولد الابن وإن سفل،والثمن مع الولد أو ولد الابن وإن سفل.وأما لبنات الصلب فأۥحوال ثلاث:النصف للواحدۃ،والثلثان للاثنتین فصاعدۃ،ومع الابن للذّکر مثل حظ الأنثیین وھو یعصبھن . (السراجی فی المیراث:ص19،مکتبۃ البشری) وقال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ تعالی:ثم العصبات بأنفسھم أربعۃ أصناف:جزء المیّت،ثم أصلہ،ثم جزء أبیہ،ثم جزء جدّہ(ویقدّم الأقرب فالأقرب منھم)بھذا الترتیب فیقدم جزء المیت(کالابن ثم ابنہ وإن سفل).....(ویصیر عصبۃ بغیرہ البنات بالابن وبنات الابن بابن الابن) وإن سفلوا. (الدر المختار:10/550-552،دار المعرفۃ)
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

ابولبابہ شاہ منصور صاحب / فیصل احمد صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔