021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کرائے پر لیا ہوا آدھا گھر کرائے پر دینا
61965اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے متفرق احکام

سوال

سوال:زید نے دو منزلہ گھر۲۵۰۰۰ماہانہ کے حساب سے دو سال کے لیے کرائے پر لیا نیچے والے پورشن میں وہ خود رہائش پذیر ہے اور اوپر والا پورشن ۲۰۰۰۰ ماہانہ کرائے پر دیتا ہے کیا ایساکرنا درست ہے۔

o

کرائےپر لی ہوئی چیز کو آگے زیادہ کرائے پر دینا شرعاً جائز نہیں۔البتہ اگر اس کے ساتھ اپنی طرف سے کوئی چیز شامل کر دی جائےیا اس میں کوئی اضافہ کر دیا جائے تو کسی بھی قیمت پر کرائے پر دینا جائز ہوگا۔ لہذا اگر زید نے اس گھر میں اپنی طرف سے کوئی چیز لگائی ہے یا اس کی مرمت کی ہے تو کسی بھی قیمت پرپورا یا آدھا گھر کرا ئے پر دینا جائز ہےاور اگر اس میں کسی قسم کا کوئی اضافہ شامل نہیں تو ماہانہ ۲۵۰۰۰ تک پورا گھر یا ۲۵۰۰۰ سے کم کم میں گھر کا کوئی حصہ کرائے پر دینا جائز ہے۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (6/ 29) ( للمستأجر أن يؤجر المؤجر ) أي ما استأجره بمثل الأجرة الأولى أو بأنقص، فلو بأكثر تصدق بالفضل ۔۔۔۔۔۔۔۔ولو آجر بأكثر تصدق بالفضل إلا في مسألتين: إذا آجرها بخلاف الجنس أو أصلح فيها شيئا، أي جنس ما استأجر به وكذا إذا آجر مع ما استأجر شيئا من ماله يجوز أن تعقد عليه الإجارة فإنه تطيب له الزيادة كما في الخلاصة. (قوله أو أصلح فيها شيئا) بأن جصصها أو فعل فيها مسناة وكذا كل عمل قائم؛ لأن الزيادة بمقابلة ما زاد من عنده حملا لأمره على الصلاح كما في المبسوط واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔