021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
زکوة کو ٹیکس کہنا غلط ہے
..زکوة کابیانزکوة کے جدید اور متفرق مسائل کا بیان

سوال

کیا یہ آمدنی پر ٹیکس اسلامی ٹیکس ہے ؟ اگر نہیں تو اسلامی ٹیکس کیا ہے زکوة کے علاوہ ؟

o

زکوة کو ٹیکس سمجھنا یا اس کا نام اسلامی ٹیکس رکھنا دونوں باتیں غلط ہیں ،کیونکہ زکوة ایک مقدس فریضہ ہے اس سے مال کی تطہیر ہوتی ہے ، انسان کے اندر جورزائل ہیں بخل ،حرص ،لالچ ،طمع جن کی وجہ سے آدمی انسانیت کے کمال عروج تک نہیں پہنچ پاتا ،زکوة اداکرنے سے ان بیماریوں کا علاج ہوجاتاہے ، انسان اللہ تعالی کے قرب کے درجات طئےکرتاہے ،معاشرہ میں مساوات کی فضاء قائم ہوتی ہے ، امن وسکون پیداہوتا ہے ۔اس لئے زکوة کو بوجھ نہیں سمجھنا چاہئے ۔ اسلامی حکومت اپنے اخراجات بیت المال کی آمدنی پوری کرتی ہے ۔ بیت المال کی مدات یہ ہیں 1۔زکوٰة 2۔ مال فئی 3۔مال غنیمت کاخمس 4۔خراجی زمین کاخراج 5۔عشری زمین کا عشر 6۔رکاز ومعادن کاخمس ۔ اس کے علاوہ حسب ضرورت عوام پر عائد کردہ ٹیکس وغیرہ ۔

حوالہ جات

الموسوعة الفقهية الكويتية (21/ 40) بيت المال هو الجهة التي يسند إليها حفظ الأموال العامة للدولة، والمال العام هو كل مال استحقه المسلمون ولم يتعين مالكه منهم، وذلك كالزكاة، والفيء، وخمس الغنائم المنقولة، وخمس الخارج من الأرض، والمعادن، وخمس الركاز، والهدايا التي تقدم إلى القضاة أو عمال الدولة مما يحمل شبهة الرشوة أو المحاباة، وكذلك الضرائب الموظفة على الرعية لمصلحتهم ومواريث من مات من المسلمين بلا وارث، والغرامات والمصادرات. ويقوم بيت۔ الموسوعة الفقهية الكويتية (35/ 13) - ذهب الفقهاء إلى أن للإمام فرض ضرائب على القادرين لوجوه المصالح العامة ولسد حاجات المسلمين.
..

n

مجیب

احسان اللہ شائق صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔