021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مسجد میں داخل ہوکر لوگوں کو سلام کرنا
62587جائز و ناجائزامور کا بیانسلام اورچھینک کا جواب دینے کے آداب

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے ہاں بعض لوگوں کی عادت ہے کہ جب وہ مسجد میں داخل ہوتے ہیں تو زور سے سلام کرتے ہیں،کیا اس طرح کرنا جائز ہے جب کہ بعض لوگ نماز،تلاوت وغیرہ میں مشغول ہوتے ہیں؟

o

مسجد میں لوگ مختلف عبادات میں مشغول ہوتے ہیں۔بلند آواز سے عمومی سلام کرنا ان کو عبادات سے ہٹا کر اپنی طرف متوجہ کرنا ہے،لہذا ایسا کرنا جائز نہیں۔اگر کوئی اس طرح سلام کرے تو حاضرین کے لیے جواب دینا واجب نہیں ہے۔ہاں کوئی شخص ان کی طرف متوجہ ہو تو آہستگی سے صرف اسے سلام کرنے میں حرج نہیں۔

حوالہ جات

فی الفتاوی الہندیۃ:" السلام تحية الزائرين، والذين جلسوا في المسجد للقراءة والتسبيح أو لانتظار الصلاة ما جلسوا فيه لدخول الزائرين عليهم ،فليس هذا أوان السلام، فلا يسلم عليهم، ولهذا قالوا: لو سلم عليهم الداخل وسعهم أن لا يجيبوه، كذا في القنية." (5/325،دار الفکر،بیروت)
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

ابولبابہ شاہ منصور صاحب / فیصل احمد صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔