021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
فوتگی کے وقت کھانا کھلانے کےلیے بنائی جانے والی کمیٹی کی رقم کا حکم
..ہبہ اور صدقہ کے مسائلہبہ کےمتفرق مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اِس مسئلے کے بارے میں کہ اہلِ محلہ نے مِل کر ایک کمیٹی بنائی ہے جو فوتگی کے وقت دور دراز سے آئے ہوئے مہمانوں کو دو دِن تک کھانا کھلائےگی،تاکہ اہلِ میت پر بوجھ نہ پڑے۔اِس کے لیے کمیٹی والوں نے ہر شادی شدہ شخص(چاہے غریب ہو یا امیر)پر مقرر شدہ رقم کی ادائیگی لازم قرار دی ہے،حالانکہ رقم جمع کرنے والوں کی وقف کی نیت بھی نہیں ہوتی۔اِس صورت میں اگر ان شرکاء میں سے کسی کا انتقال ہوجائے تو اس کی جمع کردہ رقم کا کیا حکم ہوگا؟آیا کمیٹی کے پاس ہی رہےگی یا اس کے ورثہ کو واپس کرنا ضروری ہے؟

o

پہلے یہ بات یاد رکھیں کہ اگر منکرات و بدعات سے بچتے ہوئے،دعوتِ عام کے بغیر صرف اہلِ میت اور دور سے آئے ہوئے مہمانوں کےلیےایک دن یا بقدرِضرورت تین دن تک کھانے کا انتظام کیا جائے تو اِس کی گنجائش ہے اور جب گنجائش ہے تو اس کےلیے کمیٹی بنا کر رقم جمع کی جائے تو یہ بھی درست ہے ۔ جمع شدہ رقم کا حکم یہ ہے کہ یہ امورِ خیر میں خرچ کرنے کےلیے صدقہ نافلہ کے طور پر کمیٹی کو دی گئی ہے اور کمیٹی اس کو خرچ کرنے کی وکیل ہے،لہذا جب کوئی شریک فوت ہوجائے تو اس کی دی ہوئی رقم ورثہ کو واپس کرنے کے بجائے امرِ خیر میں خرچ کی جائےگی اور اِس کا انتظام منتظمہ کے ذمے ہے۔

حوالہ جات

قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ:”ولا بأس بنقله قبل دفنه “إلی قولہ:” وباتخاذ طعام لهم“. قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ:قوله:( وباتخاذ طعام لهم) ،قال في الفتح: ويستحب لجيران أهل الميت والأقرباء الأباعد تهيئة طعام لهم يشبعهم يومهم وليلتهم؛ لقوله صلى الله عليه وسلم :«اصنعوا لآل جعفر طعاما ،فقد جاءهم ما يشغلهم.» حسنه الترمذي وصححه الحاكم،ولأنه بر ومعروف، ويلح عليهم في الأكل ؛لأن الحزن يمنعهم من ذلك، فيضعفون. اهـ. (الدر المختار مع رد المحتار:2/239، 240) قال العلامۃ ملا علی قاری رحمہ اللہ: قال الطيبي رحمہ اللہ: دل على أنه يستحب للأقارب والجيران تهيئة طعام لأهل الميت اهـ. والمراد طعام يشبعهم يومهم وليلتهم، فإن الغالب أن الحزن الشاغل عن تناول الطعام لا يستمر أكثر من يوم، وقيل: يحمل لهم طعام إلى ثلاثة أيام مدة التعزية. ثم إذا صنع لهم ما ذكر من أن يلح عليهم في الأكل؛لئلا يضعفوا بتركه استحياء، أو لفرط جزع. واصطناعه من بعيد أو قريب للنائحات شديد التحريم ؛لأنه إعانة على المعصية، واصطناع أهل البيت له لأجل اجتماع الناس عليه بدعة مكروهة. (مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح :3/ 1241) کفایت المفتی میں ہے:”میت کے قریبی رشتہ دار گھر والوں کے لائق کھانا بھیج دیں تو یہ جائز اور مستحب ہے اور یہ صرف تین دن تک“۔(4/123) وفی الفتاوى الهندية :الصدقة بمنزلة الهبة في المشاع وغير المشاع وحاجتها إلى القبض، إلا أنه لا رجوع في الصدقة إذا تمت، ويستوي إن تصدق على غني أو فقير في أنه لا رجوع فيها .ومن أصحابنا رحمهم الله تعالى من يقول: الصدقة على الغني والهبة سواء، كذا في المحيط. (الفتاوى الهندية :4/ 406) وفیہ أیضا:الوکالۃ… أما معناها شرعا: فهو إقامة الإنسان غيره مقام نفسه في تصرف معلوم حتى إن لم يكن معلوما يثبت به أدنى تصرفات الوكيل،وهوالحفظ…ويجوز التوكيل بالبياعات…والهبة والصدقة والإيداع …كذا في الذخيرة. (الفتاوى الهندية :3/ 560 ،564)
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

ابولبابہ شاہ منصور صاحب / شہبازعلی صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔