021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ایک بیٹی کو مال ہبہ کرنا، داماد کاوراثت میں حصہ
..ہبہ اور صدقہ کے مسائلہبہ کےمتفرق مسائل

سوال

میں اقبال (فرضی نام) ولد انور(فرضی نام) حلفیہ بیان کرتاہوں کہ والدصاحب کی کل زرعی زمین میں سے ایک مرلہ 13 کنال میرے حصے میں آئی۔جوکہ میں نے اپنی زندگی میں اپنی مرضی سے اوربیوی کی مرضی سے اپنی بیٹی لاعبہ اقبال کے نام کردی۔آپ کے علم میں یہ چیزلاناچاہتاہوں کہ میری تین بیٹیاں تھیں ،بڑی بیٹی کی شادی اپنی بہن کے بیٹے سے جوکہ بعدمیں انتقال کرگئی،اس کی کوئی اولادنہیں تھی۔میری تیسری بیٹی پیدائشی معذورہے،میں نے اپنے حصےمیں سے اپنے دامادکوکوئی حصہ نہیں دیا،کیامیں اپنے حصے میں سےدامادکوکچھ دے سکتاہوں؟میراداماد میرے حصے سے کچھ لینے کاحق دارہے؟

o

بیٹی کےنام پر مذکورہ اشیاء کردینایہ ہبہ ہے ،شرعی طورپر ہبہ مکمل ہونے کے لئے موہوب لہ (جس کوہبہ کیاجارہاہے)کواس طرح قبضہ دیناضروری ہے کہ وہ اس میں اپنی مرضی سے آزادانہ طورپر تصرف کرسکے اوراگراس طرح کاقبضہ نہ دیاجائےتو ہبہ مکمل نہیں ہوتا۔صورت مسؤلہ میں اگرآپ نے جائیداداپنی بیٹی کے نام صرف کاغذات کی حد تک کرائی ہے اوراس کواس جائیداد پر اس طورپر مالکانہ تصرف کااختیارنہیں دیاہےکہ وہ اپنی مرضی سے اس کواستعمال کرسکے تو یہ ہبہ مکمل نہیں ہوااورپوری جائیدادآپ کی ملک ہے اوراگر قبضہ بھی دیدیاہے تویہ مذکورہ اشیاء بیٹی کی ملکیت ہیں ۔ داماد شرعی طورپرآپ کاوارث نہیں، نیزوہ آپ کی مملوکہ چیزوں پرکسی چیزکے لینے کاحق دارنہیں ہے۔ ایک بیٹی کوسارامال ہبہ کرکے دوسری بیٹی(معذور) کومحروم کرنا گناہ ہے،اس لئےآپ کواپنی معذوربیٹی کے لئے بھی کچھ نہ کچھ حصہ ہبہ کرناچاہیے۔

حوالہ جات

لدر المختار للحصفكي (ج 5 / ص 259): "(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل." العناية شرح الهداية (ج 12 / ص 264): "ولنا قوله عليه الصلاة والسلام { لا تجوز الهبة إلا مقبوضة } والمراد نفي الملك ، لأن الجواز بدونه ثابت ، ولأنه عقد تبرع ، وفي إثبات الملك قبل القبض إلزام المتبرع شيئا لم يتبرع به ، وهو التسليم فلا يصح." الجوهرة النيرة شرح مختصر القدوري (ج 3 / ص 173): "لو قال الرجل : جميع مالي ، أو جميع ما أملكه لفلان فهذا إقرار بالهبة لا يجوز إلا مقبوضة ، وإن امتنع من التسليم لم يجبر عليه."
..

n

مجیب

محمد اویس صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔